• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • صحت و تندرستی

    کینسر سے بچاؤ کے قدرتی طریقے

    a

    کینسر جیسا مہلک مرض یک دم لاحق نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے آپ کے طرز زندگی اور خوراک کا کافی حد تک ہاتھ ہوتا ہے۔ آپ اگر بروقت اپنے کھانے پینے کی چیزوں اور اپنے طرززندگی میں مناسب تبدیلیاں لائیں تو کینسر سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے سب سے مستند رائے تو آپ کے متعلقہ ڈاکٹر ہی کی ہو گی لیکن ان سطور میں صحت و خوراک کے ماہرین کی تحقیقات کی روشنی میں بعض ایسے کھانوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کے استعمال سے کینسر جیسے موذی مرض کا دفاع ممکن ہے۔

    میٹھے مشروبات سے پرہیز
    میٹھے مشروبات کے بارے میں یہ بات تو اکثر لوگ جانتے ہیں کہ ان کے حد سے بڑھے ہوئے استعمال سے موٹاپا اور ذیابیطس کا مرض لاحق ہو سکتا ہے لیکن اس بات سے کم لوگ واقف ہیں کہ یہ خواتین میں رحم (بچہ دانی )کے کینسر کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف مینیسوتا اسکول آف پبلک ہیلتھ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق جو خواتین بھاری مقدار میں میٹھے مشروبات پیتی ہیں ان کے رحم کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات 87فیصد زیاد. ہوتے ہیں۔

    مزاحم نشاستہ جات کا استعمال
    کینسر کی بیماری کے خلاف مزاحمت کرنے والے نشاستہ جات استعمال کرنے چاہئیں۔یہ نشاستہ جات ہرے کٹے ہوئے دلیہ اور سفید لوبیے میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ نشاستہ جات انسان کو بڑی آنت کے کینسر سے بچا سکتے ہیں، جس کی وجہ سرخ گوشت کا زیادہ استعمال ہے۔ کینسر سے بچاؤ سے متعلق ایک تحقیقی جریدے کے مطابق جو لوگ ایک دن میں 3سو گرام سرخ گوشت کھاتے ہیں ان کے ریکٹل ٹشوز کے خلیوں میں 30گنا زیادہ پھیلاؤ دیکھا گیا ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر روزانہ کی بنیاد پر 40گرام نشاستہ بھی غذا کا حصہ بنایا جائے تو ریکٹل ٹشوز کے خلیوں کے تیز پھیلاؤ میں نمایاں کمی لاکر معمول کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔

    بیٹھے رہنا چھوڑیے
    ایک نئے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ دن کا زیادہ حصہ بیٹھ کر گزارتے ہیں ،ان میں بڑی آنت اور رحم کے کینسر کے خطرات ان افراد کی نسبت 24فی صد زیادہ ہوتے ہیں جو کرسی پر بیٹھ کر بہت کم وقت گزارتے ہیں۔ ایک اور تحقیق کے مطابق جو لوگ ٹی وی کے سامنے بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں ان میں بھی بڑی آنت کے کینسر کے امکانات دوسرے لوگوں کی نسبت 54فی صد زیادہ ہوتے ہیں۔اس لیے بہتر ہو گا کہ گھر میں اور کام کی جگہ میں ایسی ٹیبل کا انتظام کیا جائے جس پر کھڑے ہو کر کام کیا جا سکے۔ اگر ایسا سہولت سے ممکن نہ ہو سکے تو کام کے دوران وقفوں وقفوں سے اٹھ کر چند منٹ کے لیے ٹہل لینا چاہئے۔ کم ازکم ایک گھنٹے میں ایک بار ضرور کھڑے ہوں اور چند قدم چلیں۔

    بروکولی یا شاخ گوبھی کو سٹیم کیجیے
    بروکولی کینسر سے محفوظ رکھنے والی ایسی غذا ہے جسے آپ تسلسل کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔ اطالوی تحقیق کار 2008ء میں ایک مطالعے میں اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک بھاپ لگی ہوئی بروکولی میں گلوکوزینولیٹ (سبزی کے صحت مند ترین اجزاء) بھنی ہوئی یا ابلی ہوئی بروکولی کی نسبت بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ہارورڈ فیملی ہیلتھ گائیڈ کے مطابق اگر اسے اْبالا جائے تو اس میں سے اہم ترین غذائی اجزاء سبزی میں رہنے کی بجائے پانی میں چلے جاتے ہیں۔

    برازیلی گری دار میوے کھائیے
    برازیل نٹ میں بھاری مقدار میں سیلینئم ہوتا ہے ۔ یہ معدنی عنصر ہے جو زمین میں پایا جاتا ہے اور کینسر کے خلیوں کو اپنی موت آپ مر جانے پر مجبور کرنے کے ساتھ ساتھ جسمانی خلیوں کو ان کے ڈی این اے کی اصلاح ِنومیں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ ہاروڈ یونیورسٹی کے ایک مطالعے کے مطابق پراسٹیٹ کینسر میں مبتلا ایک ہزار لوگوں میں سے جن کے خون میں سیلینئم کی مقدار کافی زیادہ تھی ان کی بیماری کے بڑھنے کے امکانات خون میں بہت کم سیلینئم کے حامل افراد کی نسبت 48فی صد کم تھے۔

    اس کے علاوہ کورنیل یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ایریزونا کے زیر اہتمام مسلسل پانچ سال تک ہونے والی تحقیق میں یہ ثابت ہوا کہ اگر ایسے مریضوں کو روزانہ 200 مائیکروگرام سیلینئم فراہم کیا جائے تو اس سے پراسٹیٹ ٹیومرز میں 63فی صد کمی ، بڑی آنت کے کینسر میں 58فی صد کمی،جگر کی بے قاعدگی میں 46فی صد کمی کے ساتھ ساتھ کینسر کے باعث ہونے والی مجموعی اموات میں 39فی صد کمی واقع ہو سکتی ہے۔ یہاں آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ سیلینم کی 200 مائیکرو گرام مقدار برازیلین نٹ کے صرف دو بند دانوں میں موجود ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کے مریضوں کو سیلینئم سپلیمنٹس کی بجائے قدرتی طریقے سے غذا کے ذریعے حاصل کرنا چاہئے ۔اسی تحقیق کے نیتجے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جو مریض سیلینئم سپلیمنٹس لیتے ہیں ان میں پراسٹیٹ کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

    لہسن کھائیے
    یہ تیکھی قسم کی جڑی بوٹی ایلل سلفرنامی مادوں پر مشتمل ہوتی ہے جو کینسر کے خلاف جسم کے مدافعتی نظام کو متحرک اور مضبوط بناتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جسم کو ایسے کیمیائی مادوں کے اثرات سے بھی بچاتی ہے جو کینسر کا باعث بنتے ہیں اور اس کے مسلسل استعمال سے کینسر کا سبب بننے والے خلیے قدرتی طور پر مر جاتے ہیں ۔ ان خطرناک خلیوں کی طبعی موت کے عمل کوکہتے ہیں ۔ لووا ویمن ہیلتھ اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ خواتین جو زیادہ مقدار میں لہسن کا استعمال کرتی ہیں ، ان میں کم مقدار لہسن استعمال کرنے والی خواتین کی نسبت بڑی آنت کے کینسر کے خطرات 50فی صد کم ہوتے ہیں ۔

    Bایک یورپین ملٹی نیشنل تحقیق کے مطابق جولوگ بروکولی اور اس کی دیگر انواع پھول گوبھی،کاؤلی فلاور اور چینی گوبھی ہفتے میں کم ازکم ایک بار کھاتے ہیں انہیں گردے کے کینسر کا خطرہ ان دوسرے افراد کی نسبت بہت کم لاحق ہوتا ہے جو مہینے بھر میں ایک سے بھی کم مرتبہ ایسی سبزیوں کا استعمال کرتے ہیں۔

    کینسر فائٹنگ ڈنر بنائیے
    لہسن کی دو پسی ہوئی پوتھیوں کو دو کھانے کے چمچ کے مقدار زیتون کے تیل میں تَل لیں اور اسے ہلکا نمک لگے ہوئے ایک کین ٹماٹروں کے ساتھ مکس کیجیے اور مسلسل ہلاتے رہیں یہاں تک کہ وہ گرم ہو جائے اور پھر اسے گندم کے پاستے کے کپ کے ساتھ استعمال کریں ۔ اس کے کینسر کو روکنے کے فوائد آپ کو لہسن سے جبکہ لیکوپین ٹماٹروں سے حاصل ہوگی،لیکوپین سے بڑی آنت کے کینسر،پراسٹیٹ کینسر،پھیپھڑوں کے کینسر اور مثانے کے کینسر سے سے بچنے میں مدد ملے گی جبکہ اس کھانے میں موجود زیتون کا تیل آپ کے جسم کو لیکو پین جذب کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور ریشہ دار پاستہ بڑی آنت کے کینسر کے خطرات کو کم کرتا ہے ۔

    خرشف کھائیے
    خرشف سیلمرین سے بھرپور ہوتے ہیں۔یہ عمل تکسید کو روکنے والا ایک عنصر ہے جو آپ کو جلد کے کینسر سے بچاتا ہے اور کینسر کے خلیوں کی نشونما کو بھی روکتا ہے۔ خرشف کھانے کے لیے پہلے اس کی سخت چھال کو نیچے کی جانب چھیلیں اور پھر اس کے زیریں حصے اور اوپر والے نوکیلے کنارے کو بھی کاٹ کر الگ کریں۔ اس کے بعد اسے آدھ گھنٹے سے 45 منٹ تک ابالیں یا سٹیم کریں یہاں تک کہ وہ نرم ہو جائے۔اس کے بعد اسے خشک کریں تو یہ کھانے کے لیے تیار ہو جائے گا۔

    روزانہ 15منٹ دھوپ سینکیں
    آپ کے جسم میں موجود وٹامن ڈی کی تقریباً 90 فی صد مقدار خوراک یا سپلیمنٹس کے بجائے دھوپ سے براہ راست حاصل ہوتی ہے ۔ کئی تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوئی کہ کہ سورج کی روشنی وٹامن ڈی کی کمی جسمانی خلیوں کے درمیان ربط و تواصل میں کمی کا باعث بنتی ہے ، جس کی وجہ سے کینسر کے خلیوں کر بڑھنے اور پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار لوگ چھاتی ،بڑی آنت،پراسٹیٹ ،رحم اور معدے کے کینسر سمیت مختلف قسم کے کینسرز کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وٹامن ڈی کی کمی ہڈیوں کی سختی ،ذیابیطس اور عصبات کے مختلف نوع کے مسائل اور ہائی بلڈ پریشر کا باعث بھی بنتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ دھوپ بھی جسم کے لیے اچھی نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں جلد کا کینسر بھی لاحق ہوسکتا ہے ۔بس دن میں چند منٹ دھوپ لینا کافی ہوگا۔

    سبز چائے کا استعمال کریں
    2006ء میں سبز چائے اور کینسر کے درمیان تعلق کے موضوع پر 50 سے زائد مطالعے شائع ہوئے۔گو کہ ان مطالعوں کے نتائج مختلف تھے ،اس کی وجہ چائے کی قسموں میں بے پناہ تنوع کا پایا جانا ہے تاہم اکثر تحقیقات میں بتایا گیا کہ چائے پینے والے افراد میں پھپھڑوں ، بڑی آنت، چھاتی اور رحم کے کینسر کے خطرات کم ہوتے ہیں ۔ سائنسدانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سبز چائے میں موجود نامی کیمیائی مادہ کینسر کا سبب بننے والے مادوں کے خلاف اب تک کا موثر ترین ہتھیار ہے۔

    مچھلی کھائیے
    ایک جریدے امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن کے مطابق جو عورتیں ایک ہفتے میں تین ا س سے زائد بار خوردنی مچھلی کو اپنی غذا کا حصہ بناتی ہیں ان کے دیگر کی نسبت کینسر سے محفوظ رہنے کے امکانات 33 فی صد زیادہ ہوتے ہیں۔ آسڑیلوی تحقیق کاروں کے مطابق جو لوگ تین یاچار بار مچھلی کھاتے ہیں وہ مختلف قسم کے خون کے کینسرز سے محفوظ رہتے ہیں۔کچھ اور مطالعوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مچھلی کا استعمال خواتین میں رحم کے کینسر کے خطرات کو کم کر دیتا ہے۔

    خواب گاہ میں روشنی کم کیجیے
    تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ رات کے وقت زیادہ تیز روشنی کے باعث خواتین رحم یا پھر چھاتیوں کے کینسر کا شکار ہو سکتی ہیں۔روشنی دماغ میں موجود کیمیائی مادے میلا ٹونین کی قدرتی پیداوار کو متاثر کرتی ہے جو ہمارے سونے جاگنے کے امور کو منظم کرتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں ایسٹروجن ہارمون زیادہ پیدا ہوتا ہے جو دماغی کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔

    لال انگور کھائیں
    لال انگور ری وریسٹرول سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو جگر، معدے اور چھاتی کے کینسر کا سبب بننے والی اینٹی باڈی گلٹیوں کی نشونما کو روکتا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس ہیلتھ سائنس سنٹر کی 2011ء کی ایک تحقیق کے مطابق اگر جسم میں ری وریسٹرول نامی مادے کی کمی ہوتو تو یہ جلد کی خرابی اور پھر اس کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ ر ی وریسٹرول حاصل کرنے کے لیے سرخ اور جامنی انگوروں سے زیادہ مفید کچھ بھی نہیں ۔

    پیاز کھائیے
    جب کینسر سے بچانے والی غذاؤں کا ذکر آتا ہے تو ان میں پیاز سرفہرست ہے۔ کورنل فوڈ سائنس ریسرچرز کے مطابق پیاز میں بھاری مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹ کی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو انسان کو مختلف قسم کے کینسر سے محفوظ رکھتی ہیں ۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ویسٹرن ییلو،پنگن ییلو، اور نادرن ریڈ پیاز فلیو نائڈز اور اینٹی آکسیڈنٹس کا بڑا منبع ہیں جو انسان کو کینسر سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    30منٹ واک کیجیے
    ایک درجن سے زائد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو خواتین دن میں کم ازکم 30 منٹ تک ورزش کرتی ہیں ان میں دیگر خواتین کی نسبت چھاتی کے کینسر کے امکانات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ ورزش خون میں چھاتی کے کینسر کی وجہ بننے والے ہارمون ایسٹروجن کی سطح کو کم کرتی ہے ۔ ایک دوسری تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ہفتے بھر میں اوسطاً 4 گھنٹے کی واک انسان میںلبلبے کے کینسرکے خطرات کو کافی حد تک کم کر دیتی ہے ۔

    اس کے علاوہ ڈرائی کلینرز سے گریز کریں ۔ ڈرائی کلینرز کپڑوں میں نامی کیمیکل استعمال کرتے ہیں جو عملِ تنفس کے ذریعے آپ کے جگر کو متاثر کرتا ہے اور بالاخر یہ کینسر بھی بن سکتا ہے۔

    ایسے کپڑے خریدیں جنہیں ڈرائی کلین کی ضرورت نہ ہو۔ اگر ڈرائی کلین کرانا ضروری ہے تو اس کے بعد انہیں پلاسٹک بیگ سے نکال کر کھلی ہوا میں کچھ دیر کے لیے رکھیں اور پھر پہنیں۔ اس کے علاوہ انتہائی حرارت پر تیار کی گئی آلو کی چپس اور فرنچ فرائز وغیرہ سے گریز کریں کیونکہ ان میں ایکریلیمائڈ نامی مادہ ہوتا ہے جو کئی طرح کے کینسروں کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی آنت کے کینسر سے بچنے کے لیے جسم میں کیلشیئم کی مناسب مقدار کا ہونا بھی ضروری ہے ۔

    اگر ایک دن میں 700 ملی گرام کیلشیئم جسم کا حصہ بنے تو بڑی آنت کے کینسر کے خطرات 45 فی صد تک کم ہوجاتے ہیں۔ کیلشیم کی مطلوبہ مقدار کے حصول کے لیے روزانہ دودھ کا ایک گلاس ضرور پینا چاہئے۔اس کے علاوہ جو خواتین اپنے بڑھے ہوئے ناخنوں کو لیمپ وغیرہ(مصنوعی طریقوں) کے ذریعے خشک کرتی ہیں ان میں جلد کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔جنسی عمل کے دوران محفوظ طریقے اختیار نہ کرنا بھی جانبین کو جنسی اعضاء سے متعلق کئی طرح کے کینسرز میں مبتلا کر سکتا ہے اس لیے احتیاطی تدابیر بروئے کار لانی چاہئیں ۔

    (اس مضمون کی تیاری میں امریکی ڈاکٹر کیٹی آسکیوکی کتاب’سٹلیتھ ہیلتھ‘ سے مدد لی گئی ہے)

    آرڈر

    b

    c