• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • متفرق

    چیونگم کے بارے میں کچھ حیران کن انکشافات

    a

    بچوں ،بڑوں میں مقبول عام چیونگم بہت سی خطر ناک بیماریاں پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے۔

    بچے ہوں یا بڑے، سبھی میں چیونگم مقبول ہے۔ یہ ٹافی گولی کی ایسی عجیب قسم ہے جسے چبائے جاؤ مگر وہ ختم نہیں ہوتی اور پھر اس کے کچھ فوائد بھی ہیں۔ مثلاً یہ بھوک مٹاتی، منہ کی بدبو ختم کرتی اور ٹینشن بھگاتی ہے۔ اسی طرح سے چیونگم کا استعمال منہ سے مضر صحت بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چیونگم کا ایک ٹکڑا ہی منہ سے دس کروڑ بیکٹیریا کا خاتمہ صرف 10 منٹ میں کرسکتا ہے۔ تحقیق میں تو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چیونگم اس حوالے سے فلاس جتنا ہی کارآمد ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ منہ کے اندر مختلف حصوں میں بیکٹیریا کو نشانہ بناتی ہے۔چیونگم اولین 30 سیکنڈ میں سب سے زیادہ موثر ہوتی ہے اور اس کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ اس کی افادیت کم ہوتی چلی جاتی ہے تاہم 10 منٹ میں دس کروڑ جراثیموں کا خاتمہ ہوتا ہے اور جتنا وقت زیادہ ہوگا یہ تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔

    تاہم منہ کو بیکٹیریا سے پاک کرنے والی چیونگم کا بھی چینی یا شوگر سے پاک ہونا ضروری ہے ورنہ دوسری صورت میں یہ خود منہ میں بیکٹیریا پیدا کرنے کا سبب بنے گی۔چیونگم کا زیادہ استعمال آپ کے لئے نقصان دہ ہے۔لیکن بعض غذاؤں کی طرح چیونگم کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ اور اب جدید طبی تحقیق نے یہ روح فرسا انکشاف کیا ہے کہ چیونگم میں شامل کم ازکم پانچ اجزاء بچوں اور بڑوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کردیتے ہیں۔ گویا کئی بار والدین اور معالج کو علم ہی نہیں ہوتا کہ یہ بیماری چیونگم کی پیدا کردہ ہے۔ اور وہ دیگر غذاؤں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ تعلیم و شعور میں اضافے کے باعث دنیا بھر کے والدین اب بچوں کو گولیوں، ٹافیوں اور چیونگم سے دور رکھنے لگے ہیں۔ اس احتیاط کے پیچھے یہ خطرہ پوشیدہ ہے کہ ان اشیاء کی مٹھاس بچوں کو نقصان پہنچائے گی۔ مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ چیونگم شکر یا چینی ہی نہیں پانچ دیگر صحت دشمن اجزا ء کی بھی حامل ہے۔ چیونگم کے اجزاء پر متفرق امریکی ڈاکٹر تحقیق کرتے رہے۔ جب تحقیق مکمل ہوئی، تو یہ انکشافاتی رپورٹ چیونگم کی اصل حقیقت سامنے لائی۔یاد رہے ، چیونگم کے اجزا ء ہمارے خون میں جذب ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے وہ بدن میں فساد برپا کرتے ہیں۔ آئندہ چیونگم کھانے سے قبل درج ذیل پانچ اجزا ء کے مضرِ صحت عمل پر ضرور نظر رکھیے گا۔

    اسپارٹیم
    یہ مادہ اضافی ہے، یعنی تیار شدہ غذا کا ذائقہ بہتر بنانے کی خاطر اِسے شامل کیا جاتا ہے۔ مگر ماہرین کے مطابق اسپارٹیم غذائی صفت (فوڈ انڈسٹری) میں استعمال ہونے والا سب سے خطرناک مادہ ہے۔دراصل غذائی صنعت اِسے بطور چینی استعمال کرتی ہے۔ چیونگم کی تیاری میں اس کا بھرپور استعمال ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے، چیونگم کھانے سے جو طبی خرابیاں جنم لیتی ہیں، ان میں سے بیشتر اسپارٹیم کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکا میں نظام غذا و دوا کی دیکھ بھال کے ادارے، ایف ڈی اے(فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈ منسٹریشن) نے 1980ء میں اسپارٹیم کے استعمال پر پابندی لگا دی تھی۔ بعد ازاں پابندی اْٹھالی گئی، مگر بہت سے ڈاکٹر عام غذاؤں میں اس کیمیکل کا استعمال ناپسند کرتے ہیں۔اسپارٹیم کے مخالف ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ مادہ خلیوں میں ہیجان پیدا کرنے کی وجہ سے زہریلی خاصیت رکھتا ہے۔ جب یہ بذریعہ خون دماغ تک پہنچے، تو وہاں دماغی خلیوں (نیورونز) کو بہت زیادہ متحرک کر دیتا ہے۔ نتیجتاً وہ قبل از وقت مرنے لگتے ہیں۔ یہ خرابی پھر انسان کو نہ صرف ذہنی طور پر کمزور کرتی بلکہ اْسے مختلف اعصابی بیماریوں کا نشانہ بھی بنا دیتی ہے۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اسپارٹیم ایک زہریلے مادے، اسیسیول فیمپوٹاشیم سے ملتی جلتی خاصیتیں رکھتا ہے۔جانوروں پر کیے گئے تجربات سے پتا چلا ہے کہ اسیسیول فیم پوٹاشیم ’’کینسر پیدا کرنے والا مادہ‘‘ ہے۔ جسم میں اس کی موجودگی مختلف اقسام کے کینسر پیدا کر ڈالتی ہے۔ تاہم بعض غذاؤں میں یہ مادہ بطور اضافی مستعمل ہے۔

    بی ایچ ٹی
    یہ کیمیائی مادہ’’تحفظی‘‘ہے، یعنی اِسے غذا میں یوں شامل کیا جاتا ہے کہ وہ اس کے ذائقے، رنگ اور خوشبو کو طویل عرصہ برقرار رکھے۔ چنا نچہ بی ایچ ٹی چیونگم سمیت کئی تیار شدہ غذاؤں میں استعمال ہوتا ہے۔ ان میں اناج (سیریل) بھی شامل ہیں۔تاہم جدید طبی تحقیق کی رو سے جسم میں بی ایچ ٹی کی زیادتی اہم جسمانی اعضا گردوں اور جگر میں زہریلے اثرات پیدا کرتی ہے۔ نیز یہ کیمیائی مادہ بچوں میں ہیجان (ہائپر ایکٹویٹی) کو بھی جنم دیتا ہے۔ اسی لیے پچھلے چند ماہ میں بعض یورپی ممالک اِسے خطرناک قرار دے کر بی ایچ ٹی پر پابندی لگا چکے ہیں۔ تاہم چیونگم بنانے والوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اوروہ یہ زہریلا مادہ چیونگم کی تیاری میں استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔

    کیلشیم سیسین پیپٹون کیلشیم فاسفیٹ
    خاصے لمبے نام والا یہ مادہ چیونگم کو سفید بنانے کی خاطر مستعمل ہے۔ اس مادے میں شامل سیسین دودھ سے حاصل کردہ پروٹین ہے۔ یورپ میں کئی لوگ یہ پروٹین بطور غذائی مددگار(سپلیمنٹ) کھاتے ہیں۔ مگر اب ڈاکٹر خبردار کررہے ہیں کہ یہ پروٹین کئی خراب ضمنی اثرات رکھتا ہے۔ ان میں سینے کی جلن، بدہضمی اور الرجی شامل ہیں۔اسی باعث دنیا بھر کے ڈاکٹر مطالبہ کررہے ہیں کہ چیونگم اور دیگر تیار شدہ کھانوں میں درج بالا کیمیائی مادے کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔

    گم بیس
    چیونگم بنانے والے کئی اجزا عوام سے پوشیدہ رکھتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ اجزا’’ تجارتی راز‘‘(ٹریڈ سیکرٹ) ہیں۔ وہ ان اجزا کے لیے ’’گم بیس‘‘کی اصلاح استعمال کرتے ہیں۔اس حوالے سے محققین نے کتب، رسائل اور ویب سائٹس چھان ماریں تاکہ گم بیس کے اجزا معلوم ہوسکیں۔ بڑی مغز ماری اور تحقیق سے انکشاف ہوا کہ چیونگم بنانے والے گم بیس کے اجزا کو پانچ گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ان کا تعارف درج ذیل ہے:
    ٭الاسٹومیرز: یہ بنیادی اجزا چیونگم کو لچک فراہم کرتے ہیں۔
    ٭رال:یہ مادے اجزا کو باہم جوڑتے اور نرم کرتے ہیں۔
    ٭پلاسٹی سائزرز:یہ مادے اجزا کو زیادہ سے زیادہ لچک دار بناتے ہیں تاکہ بہترین گم بیس جنم لے۔
    ٭فلرز:یہ اجزا چیونگم کی مصنوعہ کو مجموعی طور پر بہتر بناتے ہیں۔
    ٭ضدِ تکسیدی :یہ مادے گم بیس اور ذائقے کو خراب نہیں ہونے دیتے۔

    تاہم محقق سر توڑ کوشش کے باوجود یہ نہ جان سکے کہ ان پانچ گروہوں کے حقیقی اجزا ء کون سے ہیں۔ چنا نچہ عوام و خواص، سبھی ان اجزا سے بے خبر چونگم کی جگالی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    ٹائٹینم ڈاؤ آکسائیڈ
    یہ مادہ چیونگم کی کوٹنگ کرنے میں کام آتا ہے نیز گولی ٹافی کی تیاری میں بھی مستعمل ہے۔ اب جدید طبی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ مادہ بچوں بڑوں میں دمہ اور کروہنز مرض نامی بیماری پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹروں کا پر زور مطالبہ ہے کہ چیونگم وغیرہ کی تیاری میں ٹائٹینم ڈاؤ آکسائیڈ کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔

    چیونگم کا زیادہ استعمال مستقل سر درد کا باعث
    چیونگم بچوں بلکہ بڑے افراد میں بھی یکساں طور پر پسند کی جاتی ہے تاہم اس کے کئی مضر اثرات بھی ہیں یعنی اس کا بہت زیادہ استعمال نوجوانوں میں مستقل سر درد اور میگرین کا باعث بن سکتا ہے۔ماہرین طب کے مطابق نوجوانوں میں مستقل سر درد کی ایک بڑی وجہ ہر وقت چیونگم چبانا بھی ہو سکتی ہے جسے ترک کر کے اس سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ صرف ایک ماہ چیونگم سے دوری اختیار کر کے اس بیماری پر قابو پایاجا سکتا ہے اور اس عادت کو ترک کرتے ہی حالت میں بہتری آجائے گی۔

    چیونگم نے باسکٹ بال کے کھلاڑی کی جان لے لی
    کبھی کبھار معمولی سی بے احتیاطی انسان کوموت کے منہ دھکیل دیتی ہے اور ایسا ہی کچھ ہوا امریکا میں جہاں باسکٹ بال کا کھلاڑی چیونگم پھیپھیڑوں میں پھنس جانے سے موت کا شکار ہوگیا۔ باسکٹ بال کی ٹیم کا کھلاڑی رات کو سونے سے قبل چیونگم منہ سے نکالنا بھول گیا جو سانس کے ساتھ اس کے پھیپھڑوں میں چلی گئی اور جان لیوا ثابت ہوئی۔وہ رات3 بجے مردہ حالت میں پایا گیا جبکہ ابتدائی تفیش سے یہ بات سامنے آئی کہ کلارک کی موت حادثاتی طور پر ہوئی ۔

    آرڈر

    b

    c