• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • متفرق

    پریوں کا دیس

    a

    فیری میڈوز پاکستان میں شمالی علاقہ جات کا وہ حسین اور سحر انگیز علاقہ ہے کہ جسے دیکھنے کے بعد مجھ سا بندہ بھی یہ یقین کرنے لگتا ہے کہ چاندنی راتوں میں پریاں یہاں آسمان سے ضرور اترتی ہوں گی-

    گلگت بلتستان کا اگر ایک مرتبہ سفر کرلیا جائے تو پوری زندگی کے لیے بندہ ان کے سحر میں گرفتار ہوجاتا ہے- آسمان کو چھوتے پہاروں کی وحشت ہو یا سرسبز علاقوں کی سحر انگیزی٬ ان سب کا حسین امتزاج ہی گویا اپنے سحر میں گرفتار کرنے کے لیے کافی ہے-

    ابتدائی جوانی یا یوں کہیے کہ لڑکپن سے لے کر اب تک یہ شمالی علاقہ جات مجھے بارہا اپنی جانب بلا چکے ہیں اور ہر بار ایک نئی مہم کی جستجو میں٬ ہمیشہ میں سفر کے لیے بھرپور توانائی کے ساتھ تیار رہتا ہوں- اس مرتبہ اس سفر کے بنیادی محرکوں میں 3 دوست شامل رہے جن میں اولاً ہمارے عزیز براردر شاہد صاحب جو دبئی میں عرصہ دراز سے قیام پذیر ہیں٬ اپنے وطن کی ان سحر انگیزیوں کو دیکھنے کے لیے عرصہ تین سال سے بیتاب تھے٬ باقی دو میں ہمارے دوسرے کزنز عامر اور ساجد تھے جو دو سال قبل روپل استور سے ہوتے ہوئے گلگت شہر٬ ہنزہ٬ عطا آباد جھیل اور خنجراب تک کا سفر کرنے کے بعد مصمم ارادہ کر بیٹھے تھے کہ عنقریب اب اس ایریا کے دیگر مقامات کی مہم جوئی کرنی ہے- ہمارا یہ گروپ بڑھتے بڑھتے 9 افراد اور 2 گاڑیوں پر پھیل گیا- دیگر احباب اور دوستوں کا ذکر تو آگے آتا رہے گا لیکن یہاں عاشق بھائی کا ذکر ضروری ہے جو گزشتہ 15 سال سے اسپین میں قیام پذیر ہیں- ہماری دعوت پر صرف تین ہفتوں میں اس سفر کے لیے تیار ہو کر کراچی پہنچ گئے-

    عامر صاحب کا گھر بحریہ اسلام آباد ہمارا مرکزی پوائنٹ تھا جہاں سے دیر گئے رات 3 بجے ہم نے اپنا سفر شوع کیا- رات کے سفر سے پنڈی اور مانسہرہ کے درمیان ٹریفک کے مسائل سے بچتے ہوئے ہم جلد ہی صبح 9 بجے بالاکوٹ سے ہوتے ہوئے شوگران پہنچ گئے-

    شوگران:
    شوگران وادی کاغان کا ایک بلند اور خوبصورت ترین مقام یا ہل اسٹیشن ہے- یہ مانسہرہ شہر سے 60 کلومیٹر اور بمشکل 2 گھنٹے کی مسافت پر ہے- شوگران میں قیام کے لیے پائن ویو کا ہوٹل ہمیں مناسب قیمت پر ملنا یقینی تھا کیونکہ ہم نے اپنے سفر کی شروعات گرمیوں کی چھٹیوں کے اختتام پر کی تھی- رات قیام کے بعد صبح آٹھ بجے ہم جیپ کے ذریعے یہاں کے ایک اور مقام پائے کے لیے تیار تھے- تقریباً 45 منٹ کے کٹھن جیپ سفر کے ذریعے پہلے آپ سری کے مقام پر پہنچیں گے اور پھر جلد ہی اصل پائے کا میدانی علاقہ اپنی خوبصورتی اور دلفریبی کے ساتھ آپ کا منتظر ہوگا- دن کا وقت ہونے کے باوجود گرم کپڑوں کے بنا یہاں جانے کی غلطی نہیں کی جاسکتی- پائے پر جہاں جیپ کا سفر ختم ہوا وہیں سے چند منٹوں کے پیدل یا گھوڑوں کے سفر کے ذریعے ہمارا گروپ پائے کے میدانی علاقہ اور چھوٹی سی پائے جھیل کے نظارے کے لیے پہنچ گیا- یہ ایک انتہائی خوبصورت اور دلفریب مقام ہے جہاں سے دیگر پہاڑوں اور چوٹیوں کا باآسانی بلندی سے نظارہ کیا جاسکتا ہے- یہاں ہمارے گروپ نے بھرپور موج مستیاں کیں اور قدرتی نظاروں کی بھرپور تصویر کشی سے لطف اندوز ہوئے-

    ہمارے کاروان میں شامل اور سب سے کم عمر محمود اعوان کے تصویر کشی اور سیلفیوں کے شوق کو دیکھتے ہوئے ہم نے ان کا نام ہی “ سیلفی ماسٹر “ رکھ دیا- اگر سچ کہوں تو پائے میڈو کی اس خوبصورتی کو قید کرنے کے لیے کیمرے کی ٹیکنالوجی بھی بےبس نظر آتی ہے- یہاں کی اصل رعنائی کو دیکھنے کے لیے آپ کا اپنے روح اور جسم کے ساتھ آنا لازم ہے ورنہ صرف “بےروح“ تصویروں سے محظوظ قطعی طور پر نہیں ہوا جاسکتا-

    ناران جھیل اور سیف الملوک:
    پاکستان میں اس وقت اگر صحیح معنوں میں اگر سیاحوں کی جنت کہاں جائے تو وہ وادی کاغان کی ملکہ ناران ہے اور یہاں کا جھومر جھیل سیف الملوک ہے- شوگران کے بعد تقریباً ایک گھنٹے بعد ناران کے خوبصورت سیاحتی مقام پر جب پہنچے تو ہمارے گروپ کے زیادہ تر دوستوں کا پروگرام ناران میں کیمپنگ کا تھا- مگر کیا کہا جائے ہماری حکومتوں اور سیاحتی اداروں کو جہاں دنیا بھر میں سیاحوں کو بھرپور سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں وہیں ہمارے ہاں ہر چیز پر پابندی لگانے کا بھرپور رواج ہے- ناران میں ہوٹلوں کی لائن کے اختتام پر دریائے کنہار کے کنارے پی ٹی ڈی سی کا ہوٹل ایک اہم مقام پر وسیع و عریض جگہ پر بنایا گیا ہے جہاں کیمپنگ کے حوالے سے ایک بہترین مقام سمجھا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے کچھ عرصہ قبل نہ صرف اس پر پابندی لگا دی گئی بلکہ ساتھ ہی دریائے کنہار کے کنارے پر بھی سوائے گرمیوں کے بھرپور سیزن کے علاوہ کیمپنگ ممنوع ہے- لہٰذا ہمارے گروپ نے ناران ہی میں ہوٹل کے قیام کو موزوں سمجھا- رات آرام کے بعد صبح جھیل سیف الملوک پہلا پڑاؤ تھا اور کچھ دوستوں کا پروگرام سیف الملوک سے پیدل یا گھوڑوں پر 4 گھنٹے کی مسافت پر موجود آنسو جھیل تھی- اس جھیل کو دیکھنے کے لیے ہمارے اسپین سے آئے کزن اور دوست عاشق صاحب ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل تیار تھے مگر گروپ میں شامل کئی اور ساتھیوں نے ان کا ساتھ نہ دیا- لہٰذا جھیل سیف الملوک کے گرد گھوڑوں پر چکر مکمل کر کے اس جھیل اور اردگرد کے نظاروں سے لطف اندوز ہونا ہی ہمارا مقصد ٹھہرا-

    جھیل سیف الملوک پر کچھ مقامی افراد ہمیں اس جھیل کی “ تاریخی داستان “ سنانے کے لیے “ بےتاب “ نظر آئے- ہمارے کچھ ساتھیوں نے بہرحال ایک بزرگ سے یہ “ داستان “ سن ہی لی- میں اس داستان کو اس لیے یہاں نہیں دہراؤں گا کہ مجھے اس فرضی کہانی پر بالکل بھی یقین نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی دلچسپی- ناران میں جھیل سیف الملوک کے علاوہ بھی دیگر مصروفیات کا سامان موجود ہے جس میں بوٹ رافٹنگ  نمایاں ہے- علاوہ ازین جل کھٹ کا مقام بھی انتہائی دلفریبی کا سامان لیے ہوئے ہے خصوصاً دو دریاؤں یا برفانی نالوں کے وسیع سنگم پر چھوٹے چھوٹے جزیروں پر اگر آپ کچھ لمحات گزاریں اور کوکنگ کا شوق پورا کریں تو زندگی بھر آپ ان لمحات کو بھول نہیں سکتے- جھیل سے واپسی پر یہ طے پایا کہ ہوٹل کے کھانے کے بجائے ہم اپنی کوکنگ خود کریں گے لہٰذا کراچی سے آئے ہمارے بڑے کزن ظہور صاحب نے چکن بریانی بنا کر پورے گروپ کی بھرپور اور لذیز ضیافت کا انتظام کیا-

    بابو سر ٹاپ اور لُولُوسر جھیل:
    صبح ہوتے ہی ہم اپنی اصل منزل “ فیری میڈوز “ کے لیے 6 بجے ہی نکل پڑے کیونکہ یہ ایک لمبا اور کٹھن سفر تھا- لہٰذا وقت کی پابندی لازم تھی- کراچی سے آئے ہمار گروپ میں شامل زندہ دل شخصیت طارق لاشاری صاحب نے 5 بجے ہی سب کو اٹھا دیا تھا جس کی وجہ سے وقت پر نکلنا آسان ہوا- جل کھٹ کے خوبصورت مقام سے آگے بیسل  پر ہمارا گروپ ناشتے کے لیے رکا جہاں ناشتے کا معیار کافی بہتر تھا٬ تیس سے چالیس منٹ بعد جب ہم یہاں سے آگے بڑھے تو خطرناک لُولُوسر ہمارے سامنے تھی- یہ جھیل سیف الملوک کے برعکس تنگ پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے اور پھیلاؤ کم ہونے کی وجہ سے سیاحوں کے لیے خطرناک بھی ہوسکتی ہے- یہاں سے چند منٹ اور آگے بڑھتے ہی مزید بلندی کا سفر طے کرتے ہوئے تقریباً 14 ہزار فٹ بلندی کے ساتھ بابو سر ٹاپ پر ہماری گاڑیاں آ کر کھڑی ہوگئیں- چیک پوسٹ پر انٹری اور کچھ دیر فوٹو گرافی کا شوق پورا ہونے پر ہمارے ساتھی آگے چلاس کی جانب گامزنِ سفر ہوئے- بابو سر ایک طرف دن میں بھی انتہائی ٹھنڈا مقام ہونے کے ساتھ ساتھ دوسری طرف آکسیجن کی کمی کی مشکلات لیے ہوئے ہے- کئی سیاح ان مشکلات کا شکار بھی نظر آتے ہیں- ٹاپ سے نیچے دریا اور دیگر پہاڑوں کا خوبصورت نظارہ کیا جاسکتا ہے- کیمپنگ ایڈونچر کے دلدادہ افراد کے لیے کیمپنگ کی سہولیات بھی میسر ہیں-

    رائے کوٹ اور فیری میڈوز
    ناران سے براستہ بابوسر ٹاپ اور چلاس کا پانچ گھنٹے سفر طے کرنے کے بعد شاہراہ قراقرم پر واقع انتہائی مختصر مقام “ رائے کوٹ “ سے صرف جیپوں کے ذریعے فیری میڈوز کے مقام تک پہنچا جاسکتا ہے- یہ جیپ سفر تاتو  مقام کے لیے ہے جہاں سے ہمیں بتایا گیا کہ آپ پیدل یا گھوڑوں پر سفر کر کے 2 سے 4 گھنٹوں میں فیری میڈوز پہنچ سکتے ہیں- رائے کوٹ پر ہمیں صرف ایک ہی شنگریلا ہوٹل دکھائی دیا جہاں ہم نے کھانے وغیرہ سے فارغ ہوکر اپنی گاڑیاں وہیں پارک کردیں- شنگریلا پر کھانے سے لے کر ڈرنکس وغیرہ ہر چیز 5 اسٹار ہوٹلوں کی قیمتویں پر دستیاب ہے٬ چونکہ رائے کوٹ جیسے بیابان مقام پر صرف ایک یہی ہوٹل موجود ہے تو آپ کے پاس سوائے مہنگا کھانا یا پھر بھوکے آگے مشکل سفر کے لیے نکل جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں- ظہور بھائی کے مشورے اور اپنی بھوک کو دیکھتے ہوئے ہم نے یہیں لنچ کرنے کو ترجیح دی-

    ہوٹل سے دن کے کھانے کے فوراً بعد ہمارا قافلہ دو جیپوں کے ذریعے فیری میڈوز کی پہلی منزل تاتو  کے لیے روانہ ہوگیا- یہ فاصلہ تو صرف 15 یا 16 کلومیٹر کا ہے لیکن باقاعدہ روڈ نہ ہونے کی وجہ سے یہ انتہائی پُرخطر اور تھکا دینے والا سفر ڈیڑھ سے دو گھنٹے میں طے ہوا- مستقل چڑھائی٬ پتھریلا پہاڑی راستہ اور اگر سامنے سے دوسری جیپ آجائے تو ان میں سے ایک کو اپنی جیپ روک کر راستہ دینا لازم ہے- اس سفر کے دوران کئی مرتبہ ہمارے رونگھٹے اس وقت کھڑے ہوجاتے جب ہماری جیپ کا رخ دوسری جانب یعنی کھائی کی جانب ہوتا اور جیپ کا ٹائر انتہائی کنارے پر آجاتا- اس وقت مجھ سمیت تمام دوستوں کی زبان پر کلمہ جاری ہوجاتا بلکہ کئی دفعہ تو پوری زندگی یک لمحہ اپنا احاطہ کیے ہمیں دکھائی دینے لگتی-

    اسی رستے کی منظر کشی اگر آپ مستنصر حسین تارڑ صاحب کے سفرنامہ “ یاک سرائے “ میں پڑھیں گے تو وہ مزید “ خوفناکیوں “ کا سامان لیے نظر آئے گی- فرماتے ہیں “ اول تو ہمارے نزدیک یہ سڑک ہی نہ تھی٬ ایک ایسا ٹریک تھا جس پر بکریاں اور قدرے بیوقوف بکریاں اپنے قدم ازحد احتیاط کے ساتھ جما کر چل سکتی تھیں- لیکن اس بکری ٹریک پر اپنے دائیں ہاتھ کے ٹائر تقریباً ہوا میں معلق اور اس ہوا میں جس کے عین نیچے اور صرف ایک کلومیٹر نیچے تاتو کا گندھگ نالہ شور مچاتا تھا—– اگر جیپ زرا لڑکھڑاتی ہے تو— اﷲ تیری یاری ( خودبخود زبان پر جاری ہوجاتا) —- جمعہ خان ڈرائیور کی اس جھولتی موت جس کا نام جیپ رکھ دیا گیا تھا—- جیپ رکی تو تادیر ہماری گردشِ خون اور حرکتِ قلب بحال نہ ہوئی“-

    بہرحال٬ ڈیڑھ دو گھنٹوں کے اس “ طویل سفر “ کے بعد ہم جب تاتو  کے مقام پر پہنچے تو ہماری جان میں جان آئی- اور کیوں نہ آتی جب ہم نے پندرہ بیس کے لگ بھگ پاکستان کے دیگر شہروں سے آئے نوجوان طلبہ کو دیکھا جن میں ایک قابلِ ذکر تعداد لڑکیوں کی تھی- ان لڑکیوں کی “ جواں مردی “ کو دیکھ کر میں نے عاشق بھائی سے پوچھا!
    “کیوں بھائی٬ اب ہمارے ان دوستوں کو یقیناً کچھ حوصلہ ملا ہوگا جو کہ اس سفر کی “ خطرناکیوں“ کو پہلے ہی بھانپ گئے تھے اور رائے ہوٹل میں قیام کو ترجیح دے رہے تھے“-

    چند منٹ پیدل سفر کے بعد ہمیں ایک ٹؤر گائیڈ رمضان ملا جس نے ہمیں گھوڑوں والوں سے ملوایا اور آگے سفر کے لیے معلومات دیں- 2500 فی سواری کے حساب سے 9 گھوڑوں کا انتظام کیا گیا اور فیری میڈوز کے لیے ہمارا سفر شروع ہوا- دو گھنٹوں کے مستقل سفر میں کچھ جگہوں پر پیدل چلتے نوجوان اور سیاح دکھائی دیے جن کی “جوان مردی“ اور ہمت کو ہمارا گروپ حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ اتنا لمبا سفر پیدل کیسے طے کیا ہوگا- بہرحال اس پیدل اور گھڑ سواری کے رستے میں بھی کئی ایسے مقام اور کھائیاں آتی ہیں کہ زرا سی لاپرواہی کے نتیجے میں انسان کئی سو فٹ نیچے گر سکتا ہے- تقریباً دو گھنٹوں کے اس سفر کے دوران ہم نے اپنے آپ کو اکیسویں صدی کے بجائے تاریخ میں گم پایا جب لوگ گھوڑوں پر ہی دور دراز کے سفر طے کیا کرتے تھے-

    فاصلے کے اعتبار سے یہ سفر تو صرف چند کلومیٹر تھا لیکن مستقل چڑھائی اور خطرناک پہاڑی راستہ ہونے کی وجہ سے بالاخر تقریباً 2 گھنٹے کی “ طویل “ گھڑ سواہری کے بعد ہم فیری میڈوز کے جب قریب پہنجے تو بھرپور ہریالی اور ٹھنڈ نے اس بات کی تائید کردی کہ جناب آپ فیری میڈوز پہنچ چکے ہیں-

    فیری میڈوز (Fairy Meadows):
    ایک سرسبز اور بلند رومانوی پہاڑی میدان—
    گھنے جنگلوں کے ذرا اوپر سے دکھائی دینے والا حسین نظارہ—
    کبھی سفید پوش برفیلی چوٹیوں کا دلکش نظارہ تو—-
    کبھی بادلوں کے اس مسکن پہاڑی سلسلہ کی سیاہ ہوتی بلندیوں کا نظارہ—

    سطح سمندر سے 3300 میٹر کی بلندی پر موجود فیری میڈوز  پہلی ہی نگاہ میں ایک سحر انگیز خوبصورتی لیے ہوئے دکھائی دیتا ہے- ظہور بھائی اور ہمارے دوست فرحان یک زبان ہو کر بولے “ تو یہ ہے فیری میڈوز “-

    یہاں سے عظیم چٹانی پہاڑی چوٹی نانگا پربت کے شمالی حصے کا قریبی نظارہ کیا جاسکتا ہے- بےشمار سیاح اس سحر انگیزی سے متاثر ہو کر اسے “ جنت نظیر “ کے نام سے پکارتے ہیں اور کیوں نہ کہیں کہ یہ ایک انتہائی پرسکون اور پرامن تفریحی مقام کی تمام تر خصوصیات لیے ہوئے ہے- اسی خوبصورتی سے متاثر ہو کر ایک جرمن کوہ پیما نے 1953 میں اسے پریوں کی جنت یا سرزمین کا نام دیا اور آج یہ اسی نام فیری میڈوز  سے جانی اور پہچانی جاتی ہے- فیری میڈوز کے مقام پر چار یا پانچ لکڑی سے بنے خوبصورت ہوٹل دکھائی دیے جہاں کیمپنگ کا بھی ہوٹل والوں کی جانب سے بھرپور انتظام موجود تھا- چونکہ اس سفر سے پہلے ہی میں نے فون کے ذریعے “ فیری میڈوز کاٹیج “ ہوٹل میں بکنگ کروا لی تھی٬ اپنا تعارف کروانے کے بعد ہمارا گروپ فوراً “ فیملی روم “ میں پہنچا دیا گیا- یہاں ہوٹل اسٹاف نے فوراً بیچ کمرے میں رکھی چمنی میں لکڑیاں جلا کر کمرے کو گرم کرنا شروع کردیا جو کہ ہمارے جیسے “ میدانی “ علاقوں سے آئے مہمانوں کے لیے ضروری تھا- چونکہ یہاں پہنچتے پہنچتے شام ہوگئی تھی لہٰذا ہم نے فوراً رات کے کھانے کا آرڈر دیا- ظہور اور لاشاری بھائی جو کہ کھانے کے منتظم تھے بِنا کھانے کے قیمت معلوم کیے ہی آرڈر دے دیا٬ جاتے ہوئے جب کھانے کا بل ہاتھ میں تھمایا گیا تو ہم سب نو کے نو ساتھیوں کو 1000 واٹ کا گویا کرنٹ کا جھٹکا لگ گیا ہو جب صرف 3 مرغیوں کی قیمت 7500 روپے دیکھی- لہٰذا آنے والے سیاحوں کے لیے یہی مشورہ ہے کہ اپنے کھانے کا انتظام یا پھر بھرپور رقم کا انتظام لازمی کر کے آئیں- کئی طلبہ جو یہاں پہنچے تھے اکثر اپنے ساتھ بند ڈبوں میں پکے پکائے کھانے ساتھ لے کر آئے تھے جو کہ ایک بہتر فیصلہ دکھائی دیا-

    چونکہ ہم اندھیرا ہونے کے قریب ہی یہاں پہنچے تھے لہٰذا رات کا کھانا کھا کر کچھ دیر گپ شپ کے بعد سونے کے لیے تیار ہوگئے- بلند اور ٹھنڈا مقام ہونے کی وجہ سے رات میں سانس لینے کے عمل میں کچھ دشواری ضرور ہوسکتی ہے- کمزور سیاحوں کو اپنے ساتھ بنیادی ادویات رکھنا میں سمجھتا ہوں کہ ضروری ہے-

    صبح کی روشنی میں نانگا پربت تو ہمارے سامنے تھی لیکن صبح کے گہرے بادلوں کی وجہ سے چوٹی انتہائی دھندلی دکھائی دے رہی تھی- بہرحال یہ وہ مقام ہے جہاں سے نانگا پربت جو کہ 8126 میٹر بلندی کے ساتھ پاکستان میں دوسری اور دنیا میں نویں بلند ترین چوٹی کا درجہ رکھتی ہے٬ اس کا شمالی حصہ باآسانی دیکھا جاسکتا ہے- شرط یہ ہے کہ موسم بالکل صاف ہو جو کہ اکثر صاف نہیں ملتا-

    ناشتے کے بعد دیگر سیاح نانگا پربت کے بیس کیمپ کے لیے نکل پڑے جو کہ تقریباً گھوڑوں اور پیدل 3 سے 4 گھنٹے کا سفر ہے- ہمارا گروپ اس سفر کے لیے قطعی طور پر تیار نہ ہوا لہٰذ ہم نے قریبی مقامات پر ہی جانے کو ترجیح دی- بطور معلومات میں یہاں تمام قابلِ ذکر تفریحی مقامات کا ذکر کر دیتا ہوں جو کہ دیگر اور آنے والے سیاحوں کے لیے معلومات کا ذریعہ بنے گا-

    نانگا پربت بیس کیمپ:
    اگر آپ کے پاس وقت اور جسمانی توانائی موجود ہے تو آپ بیال کیمپ  کا وزٹ ضرور کریں- اگرچہ یہ مزید بلندی کی جانب گامزن ہے (3500 میٹر) لیکن یہاں سے نانگا پربت کا سحر کن نظارہ مزید قریب سے کیا جاسکتا ہے-

    قریبی میدان اور جھیل:
    فیری میڈوز میں قیام کے دوران اردگرد کے تمام ہی مقام سحر انگیزی کے ساتھ آپ کے منتظر دکھائی دیتے ہیں٬ بالکل قریب کے مقامات میں یہاں کی مقامی جھیل اور گرمیوں میں آباد مقامی افراد کا چھوٹا سا میدانی گاؤں قابل ذکر ہیں- ہوٹل والوں سے معلومات حاصل کرنے کے بعد ہم نانگا پربت کی مخالف سمت پیدل ہی چل پڑے اور تقریباً دس پندرہ منٹ کی مسافت پر ایک خوبصورت میدان دکھائی دیا٬ یہاں مقامی گاؤں کے بچے کرکٹ کھیلتے اور نوجوان گھوڑوں پر تفریح کرتے نظر آئے- چند دکانیں بھی دکھائی دیں جہاں سے پانی اور جوس کی بوتلوں سے ہم نے اپنی پیاس کو کم کیا- بہرحال اگر آپ کے پاس وقت اور ہمت موجود ہو تو مقامی ہوٹل والوں کی مدد اور معلومات سے آپ قریبی علاقوں کا بخوبی نظارہ کرسکتے ہیں

    چند لمحوں کے نظاروں٬ تفریح اور فوٹوگرافی کے بعد جب ہم واپس اپنے ہوٹل پہنچے تو اس بلند مقام پر “ کرکٹ ٹورنامنٹ “ کا انعقاد کیا گیا- ہمارے ساتھ ساتھ ہوٹل اسٹاف بھی کرکٹ میچ کھیلنے کے لیے انتہائی متمنی نظر آیا اور ہمارے کھیل کا حصہ بن گئے-

    دن ایک بجے اب ہم نے واپسی کا ارادہ کیا٬ گھوڑوں والوں کو جو وقت دیا تھا وہ اپنے وقت پر موجود تھے- جلد ہی ہم نے واپسی شروع کی جو کہ آنے کے مقابلے میں اُترائی ہونے کی وجہ سے آدھے وقت میں مکمل ہوگئی- گھوڑوں اور جیپوں کے سفر طے کرتے ہوئے ہم واپس رائے کوٹ کے مقام پر 3 گھنثوں میں پہنچ چکے تھے- تھکاوٹ کے باوجود ہم نے رائے کوٹ میں پارک کی گئی گاڑیاں شنگریلا ہوٹل سے واپس لیں اور گلگت شہر کی طرف گامزنِ سفر ہوئے-

    اب ہمارا اگلا پڑاؤ اسکردو اور ملحقہ سیاحتی مقامات تھے جن میں دیوسائی کے بلند میدان ہیں٬ تھے- لیکن وہ رائے کوٹ سے 5 سے 6 گھنٹوں کا طویل سفر ہونے اور سورج بھی ڈھل جانے کے تناظر میں٬ ہماری ٹیم نے یہ فیصلہ کیا کہ رات یہاں سے ڈیڑھ گھنٹہ دور گلگت شہر میں گزاری جائے- یہ شہر نہ صرف اس نئے صوبہ کا صدر مقام بھی ہے بلکہ یہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام سہولیات بھی نہ صرف پاکستان سے آئے سیاحوں کے لیے میسر ہیں بلکہ دنیا بھر سے آئے کوہِ پیماؤں کے لیے بھی ایک اہم شہر کا درجہ رکھتا ہے-

    چونکہ میں ایک مستقل لکھاری نہیں لہٰذا اپنی اس سفری معلومات کو آپ کے ساتھ یہیں تک شئیر کرتا ہوں- اگر موقع ملا تو دیوسائی کے مقام کے متعلق عنقریب دوسری قسط میں لکھنے کی کوشش کروں گا- میرے اس “سفرنامہ“ کا بنیادی مقصد پاکستان کے ان خوبصورت اور دیومالائی داستان لیے ہوئے مقامات کی “پروموشن“ ہے جو کہ حکومت کی ضروری توجہ اور میڈیا کی مستحق کوریج حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ابھی بھی عوام الناس کی نگاہوں اور دلچسپی سے کوسوں دور ہیں- سوشل میڈیا کے اس دور میں اگر ہم ان مقامات کو تفصیلاً دیگر لوگوں تک پہنچائیں تو یقیناً ہماری اندرونی ٹؤرزم انڈسٹری نہ صرف ترقی کرے گی بلکہ ان علاقوں کی ترقی اور قومی اخوت کا بھی بھرپور ذریعہ بنے گی-

    آرڈر

    b

    c