• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • متفرق

    پاکستان ہمارا ہے

    a

    رات کے آٹھ بجے کا وقت تھا۔ خلیل اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا ہوا اپنے دوست آفتاب کابے چینی سے انتظار کررہا تھا۔ تقریباََ دو مرتبہ اس کے گھر جاکر آفتاب کی امی سے بھی آفتاب کے بارے میں معلوم کرچکا تھا۔
    اس کی امی نے بتایا: آفتاب اپنی خالہ کے گھر ایک ضروری کام سے گیا ہوا ہے، بس وہ آنے ہی والا ہے۔
    کہاں چلاگیا، کمبخت! کہیں سارا منصوبہ ہی بربادنہ کرادے۔خلیل بڑبڑایا۔ اس وقت آفتاب، اسے گلی کے اندر داخل ہوتا ہوا نظر آگیا۔ وہ آفتاب کو دیکھ کر چیخا” کہاں چلے گئے تھے۔ میں کب سے یہاں کھڑا ہوا تمھارا انتظار کررہا ہوں۔
    افوہ بھئی، کیا قیامت آگئی؟
    اسی وقت میرے ساتھ چلو۔ خلیل نے آفتاب کو بازو سے پکڑ کرچلنے کو کہا۔
    پہے مجھے امی کو توبتاکرآنے دو۔ امی کے کام سے گیا تھا۔ اب اگر بغیر بتائے جاؤں گا تو امی خفاہوں گی اور اب توشاید میرے ابو بھی آگئے ہوں گے۔ آفتاب نے کہا، مگر خلیل کہاں ماننے والا تھا۔
    بھائی! زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے کے بعد واپس آجائیں گے۔ یقین مانو بڑے مزے کاکام ہے۔ دونوں دوست چل پڑے۔ سردی بھی زیادہ ہورہی تھی۔ ان کی بستی سے کچھ دور ایک بہت بڑا اور ویران میدان تھا اور میدان سے آگے ایک چوڑی سڑک تھی۔ جس پر ٹریفک برائے نام ہی ہوتا تھا۔ آفتاب سردی برداشت کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ وہ بے چینی سے بوالا: بھائی ! کیا کام ہے کچھ بتابھی دو۔ میرے امی اور ابوسخت پریشان ہوں گے۔
    وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے میدان پارکرکے بڑی سڑک تک آگئے۔ خلیل نے ایک جگہ رک کرکہا: اچھا لو یہ پکڑو۔
    آفتاب چونکتے ہوئے بولا: مگر یہ تو غلیل ہے۔
    ہاں ، غلیل ہے۔ میں نے کب کہاکہ یہ کلاشنکوف ہے۔ خلیل نے کھڑے کھڑے اسٹریٹ لائٹوں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
    آفتاب جھنجلا گیا، مگر اس وقت یہاں کیاکام آپڑا ہے۔ چڑیاں، چڑے، کوے کوئی بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ ویسے بھی کان کھول کرسن لومجھے ہرگزہرگزمعصوم پرندوں کا شکار کرنا پسند نہیں ہے۔ امی نے سختی سے مجھے منع کیا ہوا ہے سمجھے نا۔
    اچھا چلویہ لوکنکریاں اور جو میں کہوں وہ کرو۔ یہ کہتے ہوئے خلیل نے چھوٹی چھوٹی کنکریاں ، جو پلاسٹک کی تھیلی میں تھیں۔ آفتاب کو تھماتے ہوئے کہا: یہ تم مجھے کیوں دے رہے ہو۔ ان کا کیا کروں؟
    سنو! غور سے سنو۔ آج صبح کلاس میں فاروق اور حنیف نے مجھ سے شرط لگائی تھی کہ سڑک کی دونوں جانب واپڈا کے کھمبوں پر، جو مرکری کے بلب لگے ہوئے ہیں، تمام کے تمام بلبوں کو نشانہ لے کر توڑنا ہے۔ پورے 500روپے کی شرط لگی ہے۔ آدھے فاروق اور آدھے حنیف سے مجھے ملیں گے۔ خلیل نے آفتاب کو للچاتے ہوئے بتایا: سڑک بالکل سنسان ہے بس اب جلدی شروع ہوجاؤ۔ اکادُکا کوئی گاڑی یا موٹرسائیکل آتی نظر آئے گی تو میں تمھیں ہوشیار کردوں گا۔ تھوڑی دیر کو سائڈ میں ہو کر چھپ جائیں گے، چلو وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔ ادھر تو حملہ کرو گے یہاں میں کروں گا۔ یہ تم مجھے اتنے غصے والی نظروں سے کیوں گھور کردیکھے جارہے ہو۔
    تمھارا دماغ تو نہیں چل گیا ہے۔ جاتنے ہو یہ تم کیا ور کس سے کہہ رہے ہو؟ مجھ سے جو اپنے وطن کی ہر چیز اور مٹی کے ذرے سے پیار کرتا ہے۔ خلیل بھائی! میں تمھیں مشورہ دیتا ہوں کہ ایسا گندہ خیال ذہن سے نکال دو اور اللہ سے معافی مانگو اور توبہ کرو۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم چند رپوں کی خاطر اپنے ضمیر کاسودا کر لو گے۔ بھلا اپنے وطم کی چیزوں کو نقصان پہنچانا بھی کوئی شرط ہے۔
    آخر کہنا کیا چاہتے ہو آفتاب ! خلیل نے زچ ہوتے ہوئے پوچھا۔
    میں چاہتا ہوں کہ دونوں غلیلیں میرے سامنے اسی وقت توڑ کر پھینک دو۔
    مگر مجھے تمھارا یہ فیصلہ منظور نہیں ہے۔ خلیل نے اکڑتے ہوئے جواب دیا۔
    منظور نہیں ہے توآج سے تمھارا میرا راستہ جدا ہے۔یہ دہشت گرد جو دشمن ملکوں سے مل کر چند ٹکوں کے لالچ میں آج ہمارے پیارے وطن اور یہاں کے لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ہماری فوج جو قربانیوں دے رہی ہے، تمھیں احساس ہے۔ تم میں اور دہشت گردوں میں کیا فرق رہ گیا ہے۔آفتاب نے غصہ دکھایا: میں تمھارا اس وقت تک بھائی تھا، دوست تھا جب تک مجھے تمھارے یہ غلیظ اور وطن شمن عزائم معلوم نہیں تھے، لیکن اب تم صرف میں ہی نہیں ، میرے وطن کے لیے اور اس کی عزت آبرو کے لیے ایک صرف میں ہی نہیں میرے وطن کا بچہ بچہ اپنی جان قربان کرسکتا ہے۔یادرکھو خلیل! میری نظر میں وطن کا غدار․․․․․ ماں باپ کا بھی غدار ہوتا ہے۔ آفتاب نے منھ موڑتے ہوئے کہا۔
    مجھے معاف کردو آفتاب! واقعی میں بھٹک رہا تھا۔آج کے بعد کبھی ایسا نہ ہوگا۔ خلیل نے آفتاب سے معافی مانگتے ہوئے کہا۔
    سچ․․․․؟ اور پھر آفتاب نے خلیل کے آنسو پونچھتے ہوئے اسے گلے لگا لیا۔ دونوں نے نعرہ لگایا: پاکستان ہمارا ہے۔ ہم کو جان سے پیارا ہے۔

    آردر

    b

    c

    About the author

    Tehreem Fatima

    Add Comment

    Click here to post a comment

    Your email address will not be published.