• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • متفرق

    موبائلز کے ذریعے ادویات اصلی یانقلی ہونے کاپتہ چل سکے گا

    a 

    اسلام آباد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیف آپریٹنگ آفیسرسلمان افغانی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 3ارب ڈالر مالیت کی دوائیں تیارہوتی ہیں جن میں سے تقریبا 2 فیصدکے قریب غیرمعیاری ہوتی ہیں جبکہ0.1 فیصددوا جعلی ہوتی ہے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے جعلی اورغیرمعیاری دواؤں کی روک تھام کے لیے پاکستان میں پہلی مرتبہ بارکوڈ رولزکے تحت دواؤں کی پیکنگ کوٹیکنالوجیکل ٹولز کے ذریعے کوڈنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیاہے۔

    سلمان افغانی نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے اس معاملے پر مرحلہ وارکام شروع کردیا ہے، اس کوڈنگ کے تحت دوا خریدنے والااپنے موبائلز کے ذریعے دواؤں کے اصلی یانقلی ہونے کاپتہ چلا سکے گا۔ انھوں نے بتایاکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے پہلی بارملک کے اندرکم استعمال ہونے والی ادویہ کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلیے ان کی قیمتیں انڈیا اور بنگلہ دیش کے برابر مقرر کرنے کافیصلہ کیا ہے تاکہ دوائیں مارکیٹ میں بلیک نہ کی جاسکیں، مقررہ قیمت سے زائد پر فروخت کرنے والوں کیلیے سزاؤں میں اضافہ کیاجارہا ہے جس میں فارماسیوٹیکل کمپنی کے مالک کو ایک کروڑ سے 10 کروڑ روپے جرمانہ اور 3سال قید،ڈسٹری بیوٹرکو ایک لاکھ سے10لاکھ روپے جرمانہ اور2سال قیدجبکہ ریٹیلر کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اورایک سال قیدکی سز ادی جاسکے گی۔

    کمیٹی کا اجلاس چیئرمین خالدمگسی کی زیر صدارت ہوا،ڈریپ کے سی ای اونے بریفنگ کے دوران بتایاکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے بنائے گئے نئے ریگولشنز پرکام تیزی سے جاری ہے جس کے تحت نہ صرف ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کواپ گریڈ کیا جائے گا بلکہ دواؤں کے معیار کو بھی بہتربنایاجائے گا بلکہ ادویہ کی قیمتوںکوبھی کنٹرول کیا جائے گا۔

    انھوں نے بتایاکہ پالیسی بورڈنے ڈریب لیب کی اپگریڈیشن کے لیے 15 کروڑکی منظوری دے دی ہے اس کی اپگریڈیشن ڈبلو ایچ اوکی ایکریڈیشن مل جائیگی جس کے نتیجے میں بیرون ملک دواؤں کی درآمد میں آسانی پیدا ہوگی،کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈریپ کی اپنی بلڈنگ بنانے کیلیے 20 کنال اراضی حاصل کرنے کیلیے کوشش کی جا رہی ہے، وزیرمملکت سائرہ افضل تارڑنے بتایاکہ پاکستان میںمتبادل ادویہ اورمیڈیکل ڈیوائسزکے شعبہ جات توموجودتھے لیکن انکے قوانین موجودنہ تھے جوہم نے آکر بنائے، چیئرمین کمیٹی خالدمگسی نے کہاکہ تمام قوانین کو جلد پاس کیاجائے اورکوشش کی جائے کہ عوام کو بھی آگاہی فراہم کی جائے۔ اے پی پی کے مطابق کمیٹی نے سفارش کی کہ دواؤں اوران کی پیکنگ کامعیار بہترکیاجائے ۔

    آردر

    b

    c