• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • متفرق

    ملک میں10لاکھ افراد یادداشت کی کمزوری کا شکار ہیں

    a

    طبی ماہرپروفیسرڈاکٹر اعجاز وہرہ نے کہاہے کہ بڑھتی ہوئی عمرکے افراد میں ڈیمینشیا یعنی یادداشت کی کمزوری خصوصاَ الزائمرزہونے کے امکانات کافی بڑھ جاتے ہیں، پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق ایسے مریضوں کی تعداد 10 لاکھ کے قریب ہے جواپنی ذہنی کمزوری اور یادداشت کی کمی کی وجہ سے اپنے معاملات زندگی صحیح طریقے سے انجام نہیں دے سکتے ہیں، مغرب نے ایسے مریضوں کے لیے ناصرف حکومت وقت نے اولڈہومزکاقیام عمل میں لایا ہے بلکہ اس سلسلے میں چرچ بھی اپنی ذمے داریاں پوری کرتا ہے۔

    ان خیالات کااظہارانھوںنے عالمی یوم یادداشت ( ورلڈ الزائمرز ڈے)کے حوالے سے پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی اور نیورولوجی ایویرنیس اینڈ ریسرچ فائونڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب میںکیا ، انھوںنے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں مساجداس کمی کو پوراکریں اور عبادات کے ساتھ ساتھ ان کو کمیونٹی سینٹرز کے طور پر بھی اپنایا جائے جہاں پر ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا بزرگ افراد کواپنا وقت مثبت طریقے سے گزارنے میںمدد مل سکے، ان مساجد میں ان افراد کی دیکھ بھال کے لیے مذہبی طبقے کے رضاکارخدمات انجام دے کر ثواب بھی حاصل کرسکتے ہیں، تقریب سے پروفیسر ڈاکٹرزمان شیخ، ڈاکٹر عارف، بریگیڈیئر(ر) ڈاکٹر شیر احمد، ڈاکٹر امانت اے محسن، ڈاکٹر عبد المالک اور دیگر نے خطاب کیا، ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی نے بتایا کہ یادداشت کی کمی کا شکار مریضوںکے نفسیاتی مسائل کا علاج کرکے انھیں کارآمد زندگی گزارنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے ڈپریشن بڑھتی ہوئی عمر کے افراد میں سب سے بڑی نفسیاتی بیماری کے طور پرسامنے آیا ہے ۔

    جدیددوائوں اور ماحول کی تبدیلی کے ذریعے اس کا علاج کرکے ایسے افراد کومعاشرے اور اپنے گھر والوں پر بوجھ بننے سے بچایا جا سکتا ہے ،ڈیمینشیا اور دیگر ذہنی بیماریوں کے مریض بعض اوقات بہت زیادہ تکلیف دہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کو صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے ،انھوں نے کہاکہ اپنے والدین کی ان کی موت کے بعد عزت افزائی کرنے کے بجائے ان کی زندگی میں ہی ان کو توجہ دی جائے کیونکہ مرنے کے بعد انسان کو کسی قسم کی آسائش کی ضرورت نہیں رہتی ہے ،ماہر اعصاب ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ بہترین ماحول سے بڑھتی ہوئی عمر کے مریضوں کے نفسیاتی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے ۔

    ایسے مریضوں کو صبح کے اوقات میں تازہ ہوا اور بدلتے موسموں سے لطف اندوز ہونے کے مواقع فراہم کرکے ان کی ذہنی حالت میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے، نیورولوجی ایویرینس اینڈ ریسرچ فاونڈیشن کے سیکریٹری ڈاکٹر عبد المالک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی عمر کے افرادکے ذہنی مسائل عوام تک پہنچانے کے لیے آگاہی دینے کی ضرورت ہے ۔

    آرڈر

    b

    c