• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • ہنستے مسکراتے رہیے

    مرغی یا انڈا

    a

    یہ ایک بڑا مشکل سوال ہے کہ کہ انڈہ پہلے آیاتھایا مرغی؟ یہ سوال پوچھ کر آپ بڑے سے بڑے تاریخ دان اور عالم کی لاعلمی کو بے نقاب کرسکتے ہیں‘ بے شک اس نے جواب سے فراز کالبادہ اوڑھ رکھا ہو‘ اور ہاں انڈے اور مرغی کی بحث میں تو صرف وقت ہی ضائع ہوسکا ہے یاسالن۔ خوش قسمتی سے یہ بحث کبھی کی نتیجہ خیزثابت نہیں ہوئی اگر یہ بحث پردیس میں ہوتو کچھ پردیسی اپنا وقت یوں بھی گزار لیتے ہیں۔ پردیس میں سونے‘ سوچنے اور سگریٹ کاباوفا ساتھ ہی تو ہوتا ہے اور یہ ساتھ بالکل مرغی اور انڈے کے ساتھ کی طرح ہوتا ہے۔ مرغی اپنے انڈے سے زیادہ چوزوں کاخیال رکھتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے بھی بڑے ہوکر انڈے ہی دینا ہوتے ہیں۔ مرغی چونکہ ہر وقت اپنے چوزوں کی نگہداشت میں لگی رہتی ہے اس لئے وہ اپنے مرغے کی بہت کم خاطر کرتی ہے بلکہ اسے بالکل خاطر میں نہیں لاتی۔ اس لئے مرغا بھی مرغا کی وقفے وقفے سے خبرلیتا رہتا ہے اور وی ککڑ پی ٹی وی کی طرح خبر لینے اکوئی لمحہ بھی خالی جانے نہیں دیتا‘ خصوصاََ اس وقت جب وہ اپنا طرہ بلند کرنے کی ناپاک کوشش کرتی ہے۔
    میرے دوست اشرف کاایک بہت بڑا مرغی خانہ ہے۔ مرغیوں میں رہ رہ کر اس میں بھی کئی عادات ان جیسی ہوگئی ہیں۔ سفید سوٹ پہنتا ہے اور سر پر سرخ ٹوپی رکھی ہوتی ہے۔ ہر وقت کھانے کی فکر رہتی ہے۔ اگر کوئی کام کرہی لے تا باربار اس کااظہار کرتا ہے جیسے مرغی انڈہ دینے کے بعد شور مچاتی ہے۔ یہ وہی اشرف ہے جس نے خط کے لفافے پر مرغرار کی بجائے ککڑزار کاایڈریس لکھ ریا تھا اور یہ وہی ہے جو م ر․․․ مر․․․․․․․غ ی․․․․․․غی کو ککڑی کہتا ہے اس سے پوچھیں کہ انڈہ گول ہوتا ہے یا چکور تو وہ کہتا ہے کہ انڈہ مرغی کا ہویا چکور کا․․․․․․․ یہ نہ تو مستطیل ہوتا ہے اور نہ تکونا․․․․․ بلکہ یہ بیضوی ہوتا ہے اگر اس سے پوچھیں کہ مرغی پہلے آئی تھی یاانڈہ؟ تو وہ اندازے سے کہتا ہے کہ انڈہ پہلے آیا تھا نہ مرغی بلکہ سب سے پہلے مرغا یعنی ککڑآیاتھااور اس کی پسلی سے شاید مرغی نکالی گئی۔ شاید اس لئے وہ بھی مرغے کا خاطر میں نہیں لاتی اور اسے مرغے سے زیادہ اپنے چوزوں کی فکر ہوتی ہے۔ تاہم فطرتا مرغ کو مرغی کی اور مرغی کوچوڑوں کی فکر ہوتی ہے اوریوں ہرکسی کو اپنی لوگ سے برآمد ہونے والی مخلوق کازیادہ احساس ہوتا ہے میری رائے میں مرغے کو مرغی کی بجائے مرغابی زیادہ مرغوب ہونی چاہئے خصوصاََ اس وقت جب گھر کی مرغی دال برابر ہو
    مرغے کو مرغابی کاسودا سب سے زیادہ فائدہ دے سکتا ہے اور اس کی مزید ” خوراک“ کاخاطر خواہ انتظام ہوسکتاہے۔ ککڑ کوککڑ اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ گھر میں کھانے پینے اور ککنگ کا نظام اس کے ہاتھ بلکہ پیروں میں ہوتا ہے اور وہ کھانے سے پہلے مرغی کو مصلحتاََ مطلع ابر آلود نہ ہو․․․․․․․ وہ گھر کا چوہدری بلکہ ” خان ساماں“ ہوتا ہے اسی لئے قدرت نے اس کے سر پر کلغی کی مستقل پگ باندھی ہوئی ہے۔ اگر آپ میری اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے تو اسی مرغے کی ایک ٹانگ والا معاملہ رہے گا۔
    مرغی نہ ماغا ہوگا
    جب تک نہ انڈہ ہوگا
    کیسے اس کو میں کھاؤں
    انڈہ نہ ٹھنڈا ہوگا
    یہ مرغے کی غلط فہمی ہے کہ اس کی بانگ کے بغیر صبح نہیں ہوتی کیونکہ اس کے پاس لاؤڈ سپیکر کی سہولت میسر نہیں ہوتی اور اس کی آواز تو․․․․․․ یعنی نقارخانے میں اس طوطی کی آواز کوکون سنتا ہے․․․․․․ اگر ہاتھی کا انڈہ ہوتا تو وہ اس پر خود کبھی نہ بیٹھ سکتا لیکن اس کے انڈے پر بے چاری مکھیاں بیٹھ کر اس میں سے نیا ہاتھی پیدا کرنے کی کوشش کرتیں۔ اس کے انڈے کی بناوٹ بھی یقینا بیضوی ہوتی ‘ کیونکہ انڈا ہوتا ہی ” بیضوی‘ ہے۔ یہ بات تو ویسے بھی مستند ہے کہ جس جاندار کے کان باہر ہوتے ہیں وہ انڈے نہیں دیتے․․․․․․
    اگر آپ میرے دوست رمضان سے پوچھیں کہ انڈہ پہلے آیا یا مرغی تو وہ کہتا ہے کہ آدم سے بھول چوک کر خدا کے حکم کی نافرمانی کی تھی جس کے امتحانی نتیجہ کے طور پر انہیں صفر نمبر یعنی انڈے سے نوازا گیا جیسا کہ آج کل یہ استاد کا حکم نہ ماننے والے شاگرد کو حکم عدولی کے صلہ میں ملتا ہے۔ لہٰذا آدم کی بامنافع غلطی ہمارے لئے ایک مزید ڈش کے اضافے کی بنیاد بنی․․․․․․․․ یہ سارا ڈراپ سین صبح صبح ہوا تھا اس لئے انڈہ بھی زیادہ تر صبح صبح ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کے پاس حلال کی کمائی ہے تو انڈے کھانے بڑے مہنگے پڑتے ہیں اور گرآپ کے پاس حرام کی کمائی ہے تو پھر آپ کو قدرت کی طرف سے گندے انڈے پڑتے ہیں یہاں اسی سے ملتا جلتا سوال پیداہوتا ہے کہ کیا پاکستان پہلے بناتھا یا اس کے مسائل؟ اگر ادارے پہلے ہی سے موجود تھے تو یقینا ان اداروں کانظام ان سے بھی پہلے موجود ہوگا لیکن مسائل کون ساادارہ حل کرے گا؟
    لہٰذا اس طرح انڈے لڑانا مناسب نظر نہیں آتا․․․․․ اگر یہ نظام وہی ہے تو انڈہ بیضوی ہی رہے گا اور اس کی بناوٹ کو بدلنا ظرہر ہے آسان کام نہیں․․․․․․․ مزید برآں ” آج کے ٹھپے آج ہی نہیں جلا کرتے ۔

    آرڈر

    b

    c

    About the author

    Tehreem Fatima

    Add Comment

    Click here to post a comment

    Your email address will not be published.