• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • متفرق

    دودھ کے دانت

    a

    ڈاکٹر کامِلہ افتخار کی رائے میں جب بچوں کے دانت نکلنے لگیں توان کے ہاتھ میں سیب یاگرجر تھمادیں کیونکہ یہ سخت ہونے کی وجہ سے قدرتی ٹیدر کاکام دیتے ہیں
    عموماََ دودھ کے دانت 6سے 10مہینے کی عمر میں نکلتے ہیں مگر مختلف وجوہات کی بناپر کچھ بچوں کے دانت اس سے پہلے یابعد میں بھی نکل سکتے ہیں۔ویسے بھی دانت نکلنے کاپیریڈصرف بچے کے لئے ہی نہیں بلکہ ماں کے لئے بھی خاصا کٹھن ہوتا ہے کیونکہ اس وقت بچے کوماں کی بھرپور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اس دوران اکثر بچوں کولوزموشن کی شکایت بھی ہوتی ہے مگر اس کی اصل وجہ دانت نکلنا نہیں بلکہ وہ جراثیم ہیں جوبچوں کے پیٹ میں جاکر بیماریاں پھیلاتے ہیں۔دراصل جب دانت مسوڑھوے کے اندر سے نکلنا شروع ہوتے ہیں توبچے مسوڑھوں پر دباؤمحسوس کرتے ہیں ا ور ہر چیز منہ میں ڈال کر مسوڑھوں سے دباتے ہیں۔ویسے بھی بچے اسی عمر میں کرالنگ() کرنا شروع کرتے ہیں ایسے میں اگر یہ خیال نہ کیا جائے کے بچے منہ میں کیاڈال رہے ہیں توان چیزوں پر لگے جراثیم منہ کے ذریعے پیٹ میں داخل ہوجاتے ہیں جولوزموشن کاسبب بنتے ہیں لہٰذا کوشش کریں کہ بچوں کے اردگرد کاماحول صاف ستھرا ہوتا کہ یہ کوئی چیز منہ میں جاکر انفیکشن کاباعث نہ بنے۔جیسا کہ آپ کابیٹا بھی اس مرحلے سے گزررہا ہے تو اسے بھی یقینا پیٹ مین انفیکشن کی وجہ سے لوزموشن کامسئلہ ہوگاہے۔اگر اس کی طبیعت زیادہ خراب نہیں توکوئی دوائی نہ دیں،بلکہ وقفے وقفے سے نمکول والا پانی پلائیں البتہ اگربچہ پیٹ میں دردمحسوس کرے یاموشن زیادہ ہوں توپھر ڈاکٹر سے باقاعدہ چیک اپ ضرور کرلیں۔
    ایسے بچوں کو․․
    پلاسٹک کاٹیدر دیں جوکہ سخت ہوتا ہے اور بچے سخت چیز کومسوڑھوں میں دباکر راحت محسوس کرتے ہیں اس کے علاوہ آپ بچوں کے ہاتھ میں سیب یاگاجر تھما سکتی ہیں کیونکہ یہ سخت ہونے کی وجہ سے قدرتی ٹیدرکاکام دیتے ہیں۔
    ٹیدرہویاسودر بچے کوپکڑانے سے پہلے ہربار دھوکرصاف کرلیں تاکہ ان کے ذریعے کسی قسم کے جراثیم بچے کے پیٹ میں داخل نہ ہوسکیں۔
    بچے کافیڈراستعمال سے پہلے ضرور سٹیریلائز کریں۔
    بچے پر ہروقت نظر رکھیں کہ وہ کوئی غلط یاگندی چیز منہ میں نہ ڈالے۔
    بچوں کے استعمال کی اشیاء ہاتھوں میں نہ رکھیں اس سے بھی جراثیم ان میں منتقل ہوجاتے ہیں۔
    بچے کوواش روم میں لے جائیں تواپنے ساتھ ساتھ اس کے ہاتھ بھی لازمی دھوئیں۔
    بچے کی خوراک پربھی توجہ دیں․․
    عام طور پرہمارے ہاں بڑی بوڑھی خواتین یہ کہتی ہیں کہ جب بچوں کوموشن لگے ہوں توانہیں دودھ نہ پلائیں یاکھانا نہ کھلائیں لیکن یہ خیال سراسر غلط ہے۔ایسی صورت میں بچے کی خوراک ہرگزبند نہ کریں بلکہ پہلے سے زیادہ محتاط ہوجائیں اور کوشش کریں کہ بچے کونرم غذادیں مثلاََآپ کھچڑی اور دہی میں کیلا میش کرکے کھلاسکتی ہیں۔یہ بھی دھیان رہے کہ بچے کے جسم میں پانی کی کمی نہ ہو․․ابتدائی دوسال تک اگرچہ بچے کے لئے ماں کے دودھ سے بہتر کچھ نہیں لیکن اگرکسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوتو اسے گائے کادودھ پلائیں جوپتلاہوتاہے۔دانتوں کی نشوونما کے لئے کیلشیم  بھی بے حد ضروری ہے جو دودھ ہی سے حاصل ہوتی ہے لیکن اگر کسی وجہ سے بچے دودھ نہ پئے تو ذائقہ بدلنے کے لئے اسے دودھ سے بنی اشیاء کھلائیں مثلاََ کھیراور کسٹرڈوغیرہ بھی کھلائے جاسکتے ہیں۔اگریہ بھی ممکن نہ ہوتو بچوں کوکیلشیم کے سپلیمنٹس ضروردیں تاکہ دانتوں کی بہتر نشوونما ہوسکے۔
    مسوڑھوں کے اندرسے دانتوں کانکلنا اور بڑھنا تکلیف دہ مرحلہ ہے․․․․
    جب بچوں کے دانت نکلتے ہیں تواس دوران بچے مسوڑھوں میں درد،سوجن اور الجھن سی محسوس کرتے ہیں۔
    معمول سے کم خوراک کھاتے ہیں۔
    رالیں ٹپکاتے ہیں۔
    اکثر انہیں ہلکا سابخار رہتاہے۔
    جوچیز ہاتھ میں آجائے وہ منہ میں ڈال کردبانے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اپنی اور دوسروں کی انگلیاں منہ میں ڈال کرچُوستے ہیں۔
    مسوڑھوں پر دباؤ محسوس کرتے ہیں اور اوپر نیچے کے مسوڑھوں کوآپس میں رگڑتے ہیں۔
    کیا میٹھی چیزیں کھانے سے دودھ کے دانت خراب ہوجاتے ہیں․․
    آج کل بچوں کودودھ کاذائقہ پسند ہویا نہ ہومگر انہیں ماں کی گود میں ہی کاربونیٹڈڈرنکس  کے ذائقے کی پہچان خوب ہوجاتیی ہے اسی لئے اکثر وہ بچے جو دودھ پینے سے انکار کردیتے ہیں،مشروبات پینے سے انکار نہیں کرتے ۔بہترتویہی ہے کہ بچوں کوایسی اشیاء کی عادت نہ ہی ڈالیں کیونکہ ان میں چینی کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے جو دانتوں کوخراب کرتی ہے۔ لاڈپیار میں بچوں کواایسی چیزیں ہرگزنہ کھلائیں جو ان کی جسمانی صحت اور ذہنی نشوونما کومتاثر کرنے کاباعث ہوں۔بچوں کے دودھ کے دانتوں کی حفاظت کریں اور اپنی انگلی سے ان کے دانت بھی صاف کیا کریں۔ اکثروالدین بچوں کے دانتوں کی اس لئے بھی پرواہ نہیں کرتے کہ انہوں نے توٹوٹ ہی جانا ہے اس لئے جب نئے دانت آئیں گے تودیکھاجائے گا․․․یہ سوچ بالکل غلط ہے۔یادرکھیں کہ اگر دودھ کے دانت خراب ہوگئے تودوبارہ آنے والے دانتوں میں بھی وہی خرابی ہوسکتی ہے۔

    آردر

    b

    c

    About the author

    Tehreem Fatima

    Add Comment

    Click here to post a comment

    Your email address will not be published.