• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • متفرق

    خاموشی میں نجات

    a

    کسی دور دراز علاقے میں پانی کا ایک چھوٹا سا تالاب تھا۔ اس تالاب میں ایک کچھوا رہتا تھا۔ اس تالاب کے کنارے دو کونجیں پانی کی

    تلاش میں آ پہنچیں اور یہیں ڈیرے ڈال لیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھوے اور کونجوں میں دوستی ہو گئی۔ اور ان کا وقت ہنسی خوشی گزرنے لگا۔

    ایک دفعہ ایسا ہوا کہ کافی عرصہ بارشیں نہیں ہوئیں، تالاب کا پانی آہستہ آہستہ خشک ہونے لگا۔ اب کچھوے اور کونجوں کو فکر لاحق ہو گئی کہ پانی ختم ہو گیا تو پھر گزر بسر کیسے ہو گی۔

    اور پھر ایسا ہی ہوا، بارش نہ ہونے کی وجہ سے تالاب کا پانی خشک ہو گیا۔ فیصلہ یہ کیا گیا کہ اب یہاں سے کوچ کا وقت آ چکا ہے، اب پانی کی تلاش میں نکل جانا چاہیے اور جہاں کوئی تالاب ملے وہاں ڈیرے ڈالنے چاہییں۔

    اب مسئلہ یہ درپیش تھا کہ کونجیں تو اڑ کر چلی جائیں گی لیکن کچھوے کو اتنے دور تک کیسے لے کر جایا جائے۔ اور دوستی اتنی اچھی تھی کہ ایک ساتھی کو تنہا چھوڑ کر چلے جانا بھی گوارا نہیں تھا۔ بالآخر کچھوے  کے ذہن میں ایک ترکیب آئی جس کی مدد سے وہ بھی کونجوں کے ساتھ جا سکتا تھا

    اس نے کچوے سے  کہا کہ آپ دونوں ایک لکڑی اپنے پنجوں میں مضبوطی سے پکڑ لیں گے اور میں اپنے منہ سے اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھوں گا اس طرح ہم تینوں کسی نئی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ کچھوے کی یہ ترکیب سب کو پسند آئی۔ دونوں کونجوں نے لکڑی کو پنجوں میں جکڑ لیا اور کچھوے نے منہ سے اس لکڑی کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ کونجوں نے اڑان بھری اور کچھوا بھی ان کے ساتھ ہی ہوا میں بلند ہو گیا اور وہ اپنی نئی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔ کونجوں کو پتہ تھا کہ کچھوا یک تو بولتا بہت زیادہ ہے اور اپنی تعریف کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتا۔ اس لیے انہوں نے اڑنے سے پہلے اسے نصیحت کر دی تھی کہ راستے میں کچھ بھی ہو جائے آپ نے بولنا نہیں ہے اور خاموش رہنا ہے کیوں کہ جسیے ہو بولنے کی کوشش میں منہ کھولا تو لکڑی چھوٹ جائے گی اور جا کر نیچے گریں گے۔

    راستے میں جب لوگوں نے دیکھا کہ کس طرح دو پرندے اپنے ساتھی کو بھی اپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں تو انہوں نے کونجوں کی عقل مندی کی داد دینا شروع کر دی کہ کچھوے کو ساتھ لے کر جانے کی کتنی بہترین ترکیب اختیار کی ہے۔ 

    کچھوے نے جب سنا کہ لوگ اس ترکیب کی داد اس کے بجائے کونجوں کو دے رہے ہیں تو اس سے رہا نہیں گیا اور اس نے یہ بتانے کے لیے کہ یہ ترکیب میں نے بتائی تھی منہ کھول دیا، جیسے ہی منہ کھولا تو لکڑی اس کے منہ سے چھوٹ گئی اور وہ  دھڑام سے آ کر نیچے گرا اور دم توڑ گیا۔

    اگر وہ خاموشی اختیار کرتا اور اپنے دوستوں کی تعریف برداشت کر لیتا تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ بے موقع بولنے سے پرہیز کرنا چاہیے اس سے نقصان ہو سکتا ہے اور خاموشی ایک نعمت ہے۔ کہاوت مشہور ہے کہ “ایک چپ سو سکھ”.

    آردر

    b

    c

    About the author

    Tehreem Fatima

    Add Comment

    Click here to post a comment

    Your email address will not be published.