• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • خواتین کے مخصوص مسائل

    حیض کا بند ہونا اور ہارمون کی تبدیلی کا علاج

    a

    حیض کا بند ہونا عورت کی زندگی کا قدرتی مرحلہ ہے اور اس کی شروعات ماہواری کے خاتمے کے ساتھ ہوتی ہے۔ جب کسی عورت کی عمر 45 سے 55 سال کی ہوجاتی ہے، تو اس کی بچہ دانی کا عمل عام طور پر زوال کی طرف بڑھنا شروع کردیتا ہے۔ آخر کار اس کی بیضہ دانیوں سے زنانہ ہارمون پیدا ہونا بند ہوجاتا ہے۔ جب 1 سال تک کوئی ماہواری نہیں آتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عورت سن یاس کو پہنچ چکی ہے۔ کچھ خواتین میں تمتماہٹ، رات میں پسینہ، نیند میں خلل ور عام بے چینی جیسی علامات بھی پائی جائیں گی۔

    ہارمون کی تبدیلی کا علاج (ایچ آر ٹی) سن یاس کی ان علامات کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن اس میں بھی تشویشناک ضمنی اثرات پائے جاسکتے ہیں۔ فیصلہ کرنے سے پہلے آپ کو اپنے ڈاکٹر کے ساتھ خطرات اور فوائد پر بات کرنی چاہیے۔

    وہ کیفیات جو ایچ آر ٹی کے لیے مناسب نہیں ہیں

    ایچ آر ٹی سے الرجی
    اندام نہانی سے غیر تشخیص کردہ خلاف معمول خون آنا
    رگ میں خون بستگی
    جگر کی شدید بیماری
    سینہ یا رحم کے کینسر
    دل کی ثابت شدہ بیماری
    ایچ آر ٹی کے فوائد اور خطرات

    قرب حیض سے متعلق علامات – گرم تمتماہٹ، رات میں آنے والے پسینے کو کم کرتا ہے۔
    ہڈی کی بڑھتی ہوئی سختی – ہڈی کی بڑھتی ہوئی سختی کو روکتا ہے، لیکن جب آسٹروجن علاج رک جاتا ہے، تو ہڈی کے نقصان کے خلاف تحفظ کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔
    معیار زندگی میں بہتری – یادداشت، زبانی توجیہ کو بہتر کرتا ہے۔
    بڑی آنت کا کینسر – خطرہ کم ہوجاتا ہے۔
    سینے کا کینسر – طویل مدت تک استعمال سے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    رحم کے اندر کینسر – محفوظ بچہ دانی والی خواتین کے لیے، آسٹروجن اکیلا لینے پر خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    رگوں سے متعلق خون بستگی – خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    اکلیلی دل کی بیماریاں – دل کی تسلیم شدہ بیماری والی خواتین میں ایچ آر ٹی کو شروع نہیں کرنا چاہیے۔ یہ دکھانے کے لیے اب بھی ناکافی ڈیٹا ہے کہ جن خواتین نے اپنی سن یاس کے قریب ہارمون کی تبدیل کا علاج شروع کیا تھا، کیا ان میں اکلیلی دل کی بیماری ہونے کا امکان گھٹ جائے گا۔
    ایچ آر ٹی کا فارمولا

    یہ صرف آسٹروجن یا پروجیسٹوجن ہے یا آسٹروجن اور پروجیسٹوجن دونوں کا مرکب۔

    وہ گولی، پیوند، جیل اور اندام نہانی کی کریم کی شکلوں میں دستیاب ہوسکتے ہیں۔ براہ کرم سب سے زیادہ مناسب فارمولا کو چننے کے لیے اپنے ڈاکٹر سے صلاح لیں۔

    عام ضمنی اثرات

    خون بہنا – جن خواتین کی بچہ دانی محفوظ ہے، ان میں ایچ آر ٹی حیض جیسا خون بہنا واپس لا سکتا ہے۔
    سینےکی حساسیت یا انجماد خون
    سیال کا رکنا
    علاج کرانے کے دوران لگاتار فالو اپ کی ضرورت ہے

    آرڈر

    b

    c

    About the author

    Tehreem Fatima

    3 Comments

    Click here to post a comment

    Your email address will not be published.

    • Thank you for sharing superb informations. Your website is so cool. I am impressed by the details that you have on this blog. It reveals how nicely you perceive this subject. Bookmarked this website page, will come back for extra articles. You, my friend, ROCK! I found simply the information I already searched all over the place and just could not come across. What an ideal site.

    • I have learn some just right stuff here. Definitely value bookmarking for revisiting. I surprise how a lot attempt you put to create such a fantastic informative web site.

    • I do like the way you have presented this specific concern plus it does indeed offer me personally a lot of fodder for thought. Nonetheless, from what precisely I have witnessed, I just simply wish when the responses pack on that people continue to be on issue and in no way get started upon a tirade associated with the news du jour. Anyway, thank you for this fantastic piece and whilst I can not agree with this in totality, I value your viewpoint.