• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • متفرق

    جھگڑے کا انجام

    a

    کسی دور دراز علاقے میں ایک ہرا بھرا جنگل تھا۔ اس جنگل میں  جنگل میں  بلی اور اس کے بچے رہتے تھے۔  جنگل میں ہر طرف امن و امان تھا اس لیے بچے کھیلنے کے لیے اکثر جنگل میں دور تک نکل جاتے  تھے۔ ایک روز حسب معمول  دونوں بچے کھیلتے کھیلتے  جنگل میں دور تک نکل گئے۔  شام ہونے لگی تو بڑے بچ نے چھوٹے سے کہا کہ آؤ اب لوٹ چلتے ہیں ۔

    جب واپس گھر  کے لیے لوٹ رہے تھے تو راستے میں انہیں پنیر کا ایک ٹکڑا ملا ۔  دونوں بچوں نے اسے آپس میں برابر برابر تقسیم کرنے پر اتفاق کیا۔ جب بڑے بچے نے پنیر کو درمیان سے توڑ کر دو ٹکڑے کیے لیکن پنیر دو برابر حصوں میں تقسیم نہیں ہوا بلکہ ایک ٹکڑا  چھوٹا اور دوسرا بڑا ہو گیا ۔  اب دونوں اس بات پر جھگڑنے لگے کیوں کہ کوئی بھی چھوٹا ٹکڑا لینے پر راضی نہیں تھا ۔کا فی دیر  ہو گئی لیکن  ان کا یہ جھگڑا ختم نہیں ہوا  اتنے میں وہاں سے ایک لومڑی کا گزر ہوا۔

    لومڑی نے جب دونوں کو جھگڑتے دیکھا تو پاس آ کر ان سے پوچھا کہ کیا ماجرا ہے، کس بات پر جھگڑ رہے ہیں۔ بچوں نے پنیر کا سارا قصہ اور جھگڑ کی وجہ بیان کر دی۔

    لومڑی بہت چالاک تھی ۔ پنیر دیکھ کر اس کے منہ میں پانی آ گیا اور اس نے دل ہی دل میں سارا پنیر ہڑپ کرنے کا فیصلہ  کر لیا۔

    لومڑی نے ایک ترازو لایا اور اس کے دونوں پلڑوں میں پنیر کے دونوں ٹکڑے رکھے۔ جس جانب بڑا ٹکڑا رکھا تھا وہ بھاری ہو گیا ۔ لومڑی نے اس کو چھوٹے کے برابر کرنے کے لیے اس میں سے تھوڑا سا کھا لیا۔ اب جب دوبارہ تولا تو جو پہلے چھوٹا اور ہلکا تھا اب وہ بھاری ہو گیا۔ اس طرح ہر بار لومڑی نے دونوں ٹکڑوں کو برابر کرنے کے لیے باری باری کھانا شروع کیا اور بالآخر وہ سارا ہی پنیر ہڑپ کر گئی۔

    جب دونوں بچوں نے لومڑی کی چالاکی دیکھی تو انہیں احساس ہوا کہ پہلے جو تھوڑا مل رہا تھا اب اس سے بھی ہاتھ دھونا پڑا، اور اس کی اصل وجہ زیادہ لینے کے لیے جھگڑا کرنا تھا۔ اگر دونوں بچے اپنے اپنے حصے پر راضی ہو  جاتے اور آپس میں پیار محبت سے پنیر کو بانٹ کر کھاتے تو لومڑی کی چالاکی سےمحفوظ رہتے۔

    اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو کچھ بھی مل رہا ہو چاہے تھوڑا ہو خوشی سے لے لینا چاہیے اور آپس میں جھگڑنا نہیں چاہیے۔ کیوں کہ اس طرح جھگڑنے سے وہ چیز بھی ہاتھ سے چلی جاتی ہے اور دو بھائیوں کے جھگڑے سے دوسرے لوگ فائدہ اٹھا جاتے ہیں۔

    آردر

    b

    c

     

    About the author

    Tehreem Fatima

    Add Comment

    Click here to post a comment

    Your email address will not be published.