• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل

    جانیے آپ کے گھر میں سب سے گندی چیزیں کونسی ہیں

    a

    پنسلوانیا: ہم سب ہی چاہتے ہیں کہ ہمارا گھر صاف ستھرا اور گندگی سے پاک رہے لیکن پھر بھی کچھ گھریلو چیزیں ایسی ہیں جو جراثیم کے لیے پناہ گاہوں کا کام کرسکتی ہیں اور آپ کو بیمار بھی ڈال سکتی ہیں۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ تھوڑی سی توجہ دے کر آپ انہیں آسانی سے صاف بھی کرسکتے ہیں۔

    ٹوتھ برش ہولڈر:

    اکثر غسل خانوں میں ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ وغیرہ رکھنے کے لیے ایک عدد ٹوتھ برش ہولڈر بھی بڑے اہتمام سے لگایا جاتا ہے لیکن اگر پابندی سے اس کی صفائی نہ کی جائے تو اس میں کئی طرح کے جراثیم، پھپھوندی اور کائی وغیرہ جمع ہوسکتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہفتے میں 2 مرتبہ اسے گرم پانی میں صابن گھول کر اچھی طرح صاف کریں اور جراثیموں کو اس میں پنپنے کا موقع ہی نہ دیں۔

    باتھ میٹ:

    سلیقہ مند گھروں میں غسل خانے کے باہر ایک عدد پائیدان (باتھ میٹ) بھی رکھا ہوتا ہے جس سے گیلے پیر پونچھے جاتے ہیں۔ لیکن پیروں سے اس کے اندر جذب ہوجانے والی یہی نمی (دھول مٹی کے ساتھ مل کر) اسے جراثیم کا بہترین ٹھکانہ بھی بناتی ہے۔ باتھ میٹ کو جراثیم سے پاک رکھنے کے لیے اس پر وقتاً فوقتاً کھانے کا سوڈا چھڑکنا مفید رہے گا۔ علاوہ ازیں جھاڑو یا ویکیوم کلینر سے اس کی صفائی کرنے سے پہلے کم از کم 30 منٹ تک اسے کسی کھلی جگہ پر رکھیں، اگر اس جگہ پر تیز دھوپ بھی پڑ رہی ہو تو یہ اور بھی اچھا ہوگا۔

    کچن سنک:

    کیا آپ جانتے ہیں کہ کچن سنک (جس میں رکھ کر کھانے پینے کی اشیاء اور برتن دھوئے جاتے ہیں) عام ٹوائلٹ کے مقابلے میں کہیں زیادہ جراثیم سے آلودہ ہوسکتا ہے۔ اس میں دھوئی جانے والی چیزوں کی باقیات جمع ہوتی رہتی ہیں جنہیں بروقت صاف نہ کیا جائے تو ان پر خطرناک جراثیم ڈیرے ڈال سکتے ہیں۔ پانی اور برتن دھونے والے عام صابن/ ڈٹرجنٹ/ محلول سے بھی ان کی صفائی نہیں ہوپاتی اس لیے آپ کو چاہیے کہ حسبِ ضرورت سفید سرکہ اور نیبو کا رس آپس میں ملائیں اور اس میں کوئی سا پرانا ٹوتھ برش ڈبو ڈبو کر ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ کچن سنک کی بھرپور صفائی ضرور کریں۔ اس طرح جراثیم بھی مرجائیں گے اور کچن سنک کی صورت بھی نکھر آئے گی۔

    ریفریجریٹر سیل:

    ریفریجریٹر کو ہوابند (سیل) کرنے کے لیے اس کے دروازے پر چاروں طرف لچکدار پلاسٹک یا ربڑ جیسی پٹی لگائی جاتی ہے۔ صفائی نہ کی جائے تو اس پر مٹی کے ساتھ ساتھ کائی بھی دکھائی دینے لگتی ہے جو مزید کاہلی برتنے پر ریفریجریٹر کے اندر تک پہنچ سکتی ہے اور اس میں رکھی ہوئی کھانے پینے کی چیزوں کو خراب کرسکتی ہے۔ اس کی صفائی کرنے کے لیے ایک عدد اسپرے گن والی بوتل میں آدھا سفید سرکہ اور آدھا پانی ملاکر رکھ لیں۔ ہفتے میں ایک بار ریفریجریٹر سیل پر اس محلول کا چھڑکاؤ کریں اور اسے 5 منٹ تک یونہی چھوڑ دیں۔ اب ایک صاف کپڑے سے اس کی صفائی کریں۔ البتہ ریفریجریٹر کا دروازہ بند کرنے سے پہلے یقین کرلیں کہ اس کی سیل مکمل طور پر سوکھ چکی ہے۔

    دروازے کا پائیدان:

    گھر میں داخلے کے وقت جوتے چپلیں صاف کرنے کے لیے دروازے کے ساتھ ہی ایک پائیدان (ویلکم میٹ) رکھا جاتا ہے۔ یہ بے چارہ آپ کے جوتے تو صاف کردیتا ہے لیکن ان کی دھول، مٹی اور کیچڑ اپنے اندر جذب کرکے خود کو آلودہ سے آلودہ تر کرتا چلا جاتا ہے۔ اسے بھی ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ بھرپور صفائی کی ضرورت ہے۔ لیکن صفائی سے پہلے اسے گھر سے باہر لے جاکر اچھی طرح جھاڑ لیں اور اس کے بعد قالین صاف کرنے والے برش یا ویکیوم کلینر سے اس کی صفائی کریں۔ جب یہ مرحلہ مکمل ہوجائے تو پائیدان والی جگہ صاف کرنے کے بعد میٹ رکھیں اور اس پر تھوڑی سی مقدار میں کھانے کا سوڈا پھیلا دیں۔

    موبائل فون:

    جی ہاں! آپ کا موبائل فون بھی کچھ کم غلیظ نہیں کیونکہ اسے گندے، صاف، چکنے اور آلودہ ہاتھوں سے بار بار چھوا جاتا ہے۔ اور تو اور یہ باورچی خانے، غسل خانے اور بعض اوقات طہارت خانے تک میں لوگوں کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ یعنی اس میں وہ تمام جراثیم موجود ہوسکتے ہیں جو ان جگہوں پر پائے جاتے ہیں۔ اس کی باریک باریک درزیں صاف کرنے کے لیے ٹوتھ پک کی نوک استعمال کی جاسکتی ہے۔ باقی کا تمام موبائل صاف کرنے کے لیے اینٹی بیکٹیریل ٹشو پیپر یا پھر معمولی سے کھانے کے سوڈے والا کوئی صاف کپڑا استعمال کریں اوریہ عمل ہفتے میں ایک بار کرنا بھی کافی رہے گا۔

    بچوں کے کھلونے:

    بچوں کو جہاں کھلونوں کا شوق ہوتا ہے وہیں انہیں یہ کھلونے یہاں وہاں بکھیرنے میں بھی بڑی دلچسپی ہوتی ہے۔ قالین پر، بستر پر، میز پر، زمین پر، باتھ روم اور ٹوائلٹ تک میں وہ اپنے کھلونے پھینکنے سے باز نہیں آتے۔ اور یہی چیز کھلونوں کو گھر کے آلودہ ترین سامان میں شامل کرتی ہے۔ گھر میں پائے جانے والے کم و بیش تمام اقسام کے جراثیم ان کھلونوں پر اپنی کالونیاں بناسکتے ہیں جس کی وجہ سے بچے بھی بیماریوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ اونی قسم کے کھلونے جنہیں  بھی کہا جاتا ہے، وقفے وقفے سے واشنگ مشین میں (واشنگ پاؤڈر ڈال کر) دھوئے جاسکتے ہیں البتہ کھنگالتے دوران تھوڑا سا کھانے کا سوڈا اور سفید سرکہ بھی پانی میں شکل کرلیں۔ وہ سخت کھلونے جو واشنگ مشین میں دھوئے نہ جاسکتے ہوں انہیں جراثیم اور میل کچیل سے پاک کرنے کے لیے ایک بالٹی پانی میں تھوڑے سے سفید سرکہ والے محلول میں کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیں اور اس کے بعد ایک صاف ستھرے کپڑے سے انہیں اچھی طرح خشک کرلیں۔ اگر ان کھلونوں کا دھونا منع ہو تو پھر آدھا کپ پانی میں اتنی ہی مقدار کا سفید سرکہ ملالیں اور کوئی صاف کپڑا اس محلول میں  بھگونے اور نچوڑنے کے بعد اسی کپڑے سے کھلونوں کی صفائی کریں۔

    آرڈر

    b

    c