• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • متفرق

    بچے خوف زدہ کیوں ہوتے ہیں؟

    a

    بچوں میں ڈریا خوف ایک عام کیفیت ہے تاہم اس مسئلے سے نگاہیں چرانا اور والدین کا اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لینا سراسر غلط عمل ہے کیوں کہ حقیقی یا غیر حقیقی خوف کے نتیجے میں بچوں کی شخصیت مسخ ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ بچوں میں خوف یا ڈر کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ کچھ بچے اندھیرے کے خوف کھاتے ہیں کچھ بچے اکیلے بند یا خالی کمرے سے کتراتے ہیں۔ ایسے بچوں کے ساتھ زبردستی کرنا ہر گز درست نہیں ہوگا، کیوں کہ اس طرح ان کا ڈرکم ہونے کے بجائے بڑھتا چلا جائے گا ۔ یہ کوشش کی جائے کہ بچے کو اندھیرے سے جس قدر ممکن ہو دور رکھا جائے گا۔ ایسے کمرے جو خالی رہتے ہوں وہاں دن کے مختلف اوقات میں بچوں کے ساتھ کئی دفعہ آئیں جائیں۔ اگر لائٹ نہ ہو اور چھت پر وقت گزارنا ہو تو بچوں کو دل چسپ کہانیاں سنائیں۔ بچوں کو ایمرجنسی لائٹ استعمال کرنے کا طریقہ بتائیں۔
    اکثر بڑے خود بچوں کے دلوں میں خوف بٹھا دیتے ہیں جو بعض اوقات ساری عمران کے دل و دماغ میں رہتا ہے۔
    معالج کے پاس جا کر ٹیکا (انجکشن) لگوانا بھی بچوں کا عمومی خوف ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بھی والدین کا عام طور پر یہ جملہ ہوتا ہے مثلاََ ”تم بات نہیں مانو گے تو تمھیں سوئی لگو دیں گے۔“اس خوف کو دور اور کم کرنے کے لئے بچے کو کسی معالج کے پاس لے جائیں او ر اسے بتائیں کہ معالج کیسے مریض کی تکلیف دور کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
    بچوں کو خیالی شکلوں ،سایوں یا خود ساختہ آوازوں سے ڈرانا بھی غلط ہے۔ ایسے بچے تیز آوازوں میں متحریک سائے دیکھ کر بھی خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو سزا کے طور پر خالی یا اندھیرے کمروں میں بند کرنا بھی ان کے دل و دماغ میں زندگی بھر کے لئے خوف بیٹھ جانے کا سبب بن سکتا ہے۔
    بچوں کو تعمیری کاموں میں مصروف رکھیں۔ انھیں ایسی کہانیوں دو دور رکھیں جو ان کے دلوں میں ڈریا خوف پیدا کریں۔ بچے ڈراوٴنی کہانیاں پڑھ کر ان دیکھی شکلیں اپنے ذہنوں میں بٹھا لیتے ہیں اور ڈرنے لگتے ہیں۔ ڈراوٴنے قصے ، حادثات کی تصویریں او دہشت زدہ کرنے والی خبریں بھی بسا اوقات بچوں کا دھیان مختلف دل چسپ کھیلوں کی طرف لگائیں۔
    بعض بچے توجہ حاصل کرنے کے لئے بھی ڈریا خوف کی اداکاری کرتے ہیں۔ اسی طرح بعض بچے زیادہ بہادر بننے کی کوشش میں اصل ڈر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ بچے روز مرہ کے عوام جیسے نہانے حتیٰ کہ جھولا جھولنے سے بھی خوف زدہ رہتے ہیں اس لئے والدین کو چاہیے کہ بچے کا ڈر چاہے حقیقی ہو یا غیر حقیقی اس کا بغور جائزہ لیں اور اس کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ ضرورت پڑنے پر معالج سے بھی مشور کریں اس امر کو ہر گز نظر انداز نہ کریں ورنہ آگے چل کی یہ ڈر بچے کا شعور متاثر بھی کر سکتا ہے اور اس کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب کرنے کا بھی سبب بن سکتا ہے

    آردر

    b

    c

    About the author

    Tehreem Fatima

    Add Comment

    Click here to post a comment

    Your email address will not be published.