• product
  • بیوٹی ٹپس
  • پکوان
  • خواتین کے مخصوص مسائل
  • ستارے کیا کہتے ہیں؟
  • صحت و تندرستی
  • فیشن
  • گھریلو مسا ئل اور ان کا حل
  • متفرق
  • مردوں کے مسائل
  • ہنستے مسکراتے رہیے
  • متفرق

    بچوں کے سوالوں کو نظر انداز نہ کریں

    a

    ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر بچوں کے لیے پہلی تر بیت گا ہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بچے والدین کے رد عمل پر غور کرتے اور پھر اس کی تقلید کر تے ہیں ۔
    چھوٹے بچے والدین کے بو لنے سے سیکھنا شروع کر تے ہیں۔ اکثر والدین کا خیال ہو تا ہے کہ بچے کو بو لنا نہیں آتا اس لیے وو اس سے زیادہ بات ہی نہیں کرتے
    بلکہ توتلے لفظو ں سے اسے سمجھانے کی کو شش کر تے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ چھوٹے بچے بھی شعو ر رکھتے ہیں اور والدین کے نا مکمل الفاظ کو بھی سمجھنے کی کو شش کر تے ہیں۔
    چھوٹی عمر کے بچے رنگو ں اور حر کت کر تی چیزوں کی طرف مختلف آوازوں سے بھی متا ثر ہو تے ہیں ۔ جب والدین لفظ پوری طرح سے ادا نہیں کرتے تو پریشان ہو جاتے ہیں۔
    بڑے ہو نے پر والدین کی گفتگو کا انداز بچوں کے لیے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اکثر یوں ہو تا ہے کہ والدین بچوں کو ان کے سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دے پاتے
    یا پھر بات کو ٹال کر کسی اور کام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ والدین کا یہ رد عمل بھی بچوں کے مشا ہد کا حصہ بن جاتا ہے اور بعد کی زندگی میں ان ہی طریقوں کے ذریعے صورتحال
    اور مواقع کا رد عمل پیش کر تے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین بچوں کے سوالوں پر جھجھک کا مظاہرہ کر نے کے بجائے انہیں تسلی بخش جواب دیں
    تاکہ اس کے ذہن میں ادھورے سوال نہ رہیں۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر خالد ترین کا کہنا ہے کہ والدین کو چائیے کہ وہ اپنے بچوں کی بات کو اور ان کے سوالوں کو بڑے اطمینان سے سنیں
    اور پھر ان کا جواب دیں انہیں نظر انداز کر نا درست نہیں۔

    آردر

    b

    c